تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ القصص (28) — آیت 14

وَ لَمَّا بَلَغَ اَشُدَّہٗ وَ اسۡتَوٰۤی اٰتَیۡنٰہُ حُکۡمًا وَّ عِلۡمًا ؕ وَ کَذٰلِکَ نَجۡزِی الۡمُحۡسِنِیۡنَ ﴿۱۴﴾
اور جب وہ اپنی جوانی کو پہنچا اور پورا طاقت ور ہو گیا تو ہم نے اسے قوت فیصلہ اور علم عطا کیا اور اسی طرح نیکی کرنے والوں کو ہم بدلہ دیتے ہیں۔ En
اور جب موسٰی جوانی کو پہنچے اور بھرپور (جوان) ہو گئے تو ہم نے اُن کو حکمت اور علم عنایت کیا۔ اور ہم نیکو کاروں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں
En
اور جب موسیٰ (علیہ السلام) اپنی جوانی کو پہنچ گئے اور پورے توانا ہوگئے ہم نے انہیں حکمت وعلم عطا فرمایا، نیکی کرنے والوں کو ہم اسی طرح بدلہ دیا کرتے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَمَّا بَلَ٘غَ اَشُدَّهٗ جب موسیٰ علیہ السلام اپنی پوری قوت اور عقل و فہم کو پہنچ گئے اور یہ صفت انسان کو غالب طور پر چالیس سال کی عمر میں حاصل ہوتی ہے ﴿ وَاسْتَوٰۤى اور ان مذکورہ صفات میں درجۂ کمال کو پہنچ گئے ﴿ اٰتَیْنٰهُ حُكْمًا وَّعِلْمًا تو ہم نے ان کو حکمت اور علم عطا کیا۔ یعنی ان کو ایسی دانائی عطا کی جس کی بنا پر انھیں احکام شرعیہ کی معرفت حاصل ہوگئی اور وہ نہایت دانائی کے ساتھ لوگوں میں فیصلہ کرتے تھے اور ان کو بہت سے علم سے نوازا ﴿ وَؔكَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ اور اسی طرح ہم جزا دیتے ہیں احسان کرنے والوں کو۔ یعنی اچھے طریقے سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والوں اور اللہ کی مخلوق کے ساتھ احسان سے پیش آنے والوں کو اللہ تعالیٰ ان کے احسان کے مطابق علم اور حکمت سے سرفراز فرماتے ہیں۔ یہ آیت کریمہ موسیٰ علیہ السلام کے کمال احسان پر دلالت کرتی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ولمَّا بَلَغَ أشُدَّهُ}: من القوَّة والعقل واللب، وذلك نحو أربعين سنة في الغالب، {واسْتَوى}: كملت فيه تلك الأمورُ {آتَيْناه حكماً وعلماً}؛ أي: حكماً يعرف به الأحكام الشرعيَّة، ويحكُم به بين الناس، وعلماً كثيراً. {وكذلك نَجْزي المحسنينَ}: في عبادة الله، المحسنين لخلق الله؛ يعطيهم علماً وحكماً بحسب إحسانِهِم. ودلَّ هذا على كمال إحسان موسى عليه السلام.