موسیٰ (علیہ السلام) کی والده نے اس کی بہن سے کہا کہ تو اس کے پیچھے پیچھے جا، تو وه اسے دور ہی دور سے دیکھتی رہی اور فرعونیوں کو اس کا علم بھی نہ ہوا
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَقَالَتْ ﴾موسیٰ علیہ السلام کی والدہ نے کہا لِاُخْتِهٖقُصِّیْهِ﴾ ”آپ کی بہن سے کہ اس بچے کے پیچھے پیچھے چلتی جاؤ۔“ یعنی اپنے بھائی کے پیچھے پیچھے جا اور اس پر اس طرح نظر رکھ کہ کسی کو تمھارے بارے میں پتہ نہ چلے اور نہ تمھارے مقصد کا ان کو علم ہو۔ پس وہ ان کے پیچھے پیچھے چلتی رہی ﴿ فَبَصُرَتْبِهٖعَنْجُنُبٍوَّهُمْلَایَشْ٘عُرُوْنَ﴾ یعنی وہ ایک طرف ہو کر اس طرح موسیٰ علیہ السلام کو دیکھتی رہی گویا کہ وہ کوئی راہ گیر عورت ہے اور اس کا کوئی قصد و ارادہ نہیں ہے۔ یہ انتہا درجے کی حزم و احتیاط تھی اگر وہ بچے کو دیکھتی رہتی اور ایک قصد و ارادہ کے ساتھ آتی تو لوگ سمجھ جاتے کہ اسی عورت نے صندوق کو دریا میں ڈالا ہے اور وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو، ان کے گھر والوں کو سزا دینے کی خاطر ذبح کر دیتے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وقالت} أمُّ موسى {لأختِهِ قُصِّيهِ}؛ أي: اذهبي فقُصِّي الأثرَ عن أخيك، وابحثي عنه؛ من غيرِ أن يُحِسَّ بك أحدٌ أو يشعروا بمقصودِك، فذهبتْ تقصُّه، {فبَصُرَتْ به عن جُنُبٍ وهم لا يَشْعُرونَ}؛ أي: أبصرتْه على وجهٍ كأنَّها مارةٌ لا قصدَ لها فيه، وهذا من تمام الحزم والحذرِ؛ فإنَّها لو أبصرتْه وجاءتْ إليهم قاصدةً؛ لظنُّوا بها أنها هي التي ألقتْه، فربَّما عزموا على ذبحِهِ عقوبةً لأهله.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔