اور ہم نے اس پر پہلے سے تمام دودھ حرام کر دیے تو اس نے کہا کیا میں تمھیں ایک گھر والے بتلائوں جو تمھارے لیے اس کی پرورش کریں اور وہ اس کے خیر خواہ ہوں۔
En
اور ہم نے پہلے ہی سے اس پر (دائیوں) کے دودھ حرام کر دیئے تھے۔ تو موسٰی کی بہن نے کہا کہ میں تمہیں ایسے گھر والے بتاؤں کہ تمہارے لئے اس (بچے) کو پالیں اور اس کی خیر خواہی (سے پرورش) کریں
ان کے پہنچنے سے پہلے ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) پر دائیوں کا دودھ حرام کر دیا تھا۔ یہ کہنے لگی کہ کیا میں تمہیں ایسا گھرانا بتاؤں جو اس بچہ کی تمہارے لیے پرورش کرے اور ہوں بھی وه اس بچے کے خیر خواه
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
یہ موسیٰ علیہ السلام اور ان کی والدہ پر اللہ تعالیٰ کا لطف وکرم تھا کہ اس نے موسیٰ علیہ السلام کو کسی عورت کا دودھ پینے سے روک دیا، چنانچہ وہ موسیٰ علیہ السلام پر ترس کھاتے ہوئے ان کو بازار میں لے آئے تاکہ شاید کوئی اسے تلاش کرتا ہوا آجائے۔
موسیٰ علیہ السلام اسی حال میں تھے کہ ان کی بہن آئی اور کہنے لگی: ﴿ هَلْاَدُلُّكُمْعَلٰۤىاَهْلِبَیْتٍیَّكْفُلُوْنَهٗلَكُمْوَهُمْلَهٗنٰصِحُوْنَ ﴾”کیا میں تمھیں ایسے گھر والے بتاؤں کہ تمھارے لیے اس (بچے) کی کفالت کریں اور اس کے خیر خواہ بھی ہوں۔“ یہ ان کی سب سے بڑی غرض و غایت تھی کیونکہ وہ اس سے بہت شدید محبت کرتے تھے اور چونکہ اللہ تعالیٰ نے تمام دودھ پلانے والیوں کو موسیٰ علیہ السلام کے لیے ممنوع کر دیا تھا اس لیے انھیں ڈر تھا کہ کہیں بچہ مر نہ جائے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ومن لُطْفِ الله بموسى وأمه أنْ مَنَعَه من قَبول ثدي امرأةٍ، فأخرجوه إلى السوقِ رحمةً به، ولعل أحداً يطلبُهُ، فجاءت أختُه وهو بتلك الحال، {فقالتْ هل أدُلُّكُم على أهل بيتٍ يَكْفُلونَه لكم وهُم له ناصحونَ}: وهذا جُلُّ غرضِهم؛ فإنَّهم أحبُّوه حبًّا شديداً، وقد منعَهُ اللهُ من المراضع، فخافوا أن يموتَ.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔