تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النمل (27) — آیت 91

اِنَّمَاۤ اُمِرۡتُ اَنۡ اَعۡبُدَ رَبَّ ہٰذِہِ الۡبَلۡدَۃِ الَّذِیۡ حَرَّمَہَا وَ لَہٗ کُلُّ شَیۡءٍ ۫ وَّ اُمِرۡتُ اَنۡ اَکُوۡنَ مِنَ الۡمُسۡلِمِیۡنَ ﴿ۙ۹۱﴾
مجھے تو یہی حکم دیا گیا ہے کہ میں اس شہر کے رب کی عبادت کروں جس نے اسے حرمت دی اور اسی کے لیے ہر چیز ہے اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں فرماں برداروں میں سے ہوجاؤں۔ En
(کہہ دو) کہ مجھ کو یہی ارشاد ہوا ہے کہ اس شہر (مکہ) کے مالک کی عبادت کروں جس نے اس کو محترم (اور مقام ادب) بنایا ہے اور سب چیز اُسی کی ہے اور یہ بھی حکم ہوا ہے کہ اس کا حکم بردار رہوں
En
مجھے تو بس یہی حکم دیا گیا ہے کہ میں اس شہر کے پروردگار کی عبادت کرتا رہوں جس نے اسے حرمت واﻻ بنایا ہے، جس کی ملکیت ہر چیز ہے اور مجھے یہ بھی فرمایا گیا ہے کہ میں فرماں برداروں میں ہو جاؤں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ان سے کہہ دیجیے: ﴿ اِنَّمَاۤ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ رَبَّ هٰؔذِهِ الْبَلْدَةِ مجھے یہی حکم ہوا ہے کہ میں اس شہر کے رب کی عبادت کروں۔ یعنی مکہ مکرمہ ﴿ الَّذِیْ حَرَّمَهَا جس نے اس کو محترم بنایا۔ اور اس کے رہنے والوں کو نعمتوں سے بہرہ ور کیا۔ پس اس لیے ان پر واجب ہے کہ وہ ان نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں۔ ﴿ وَلَهٗ كُ٘لُّ شَیْءٍ عالم علوی اور عالم سفلی کی تمام اشیاء کا وہی مالک ہے اور یہ فقرہ اس وہم کے ازالے کے لیے استعمال کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت صرف بیت حرام سے مختص ہے ﴿ وَّاُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْ٘مُسْلِمِیْنَ(یہاں مصنف نے سبقت قلم سے ﴿ وَّاُمِرْتُ لِاَنْ اَ كُوْنَ اَوَّلَ الْ٘مُسْلِمِیْنَ لکھ دیا ہے اور اسی کے مطابق تفسیر کی ہے) یعنی مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں جلدی سے اسلام کی طرف بڑھوں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تعمیل کی کیونکہ وہ اولین مسلمان اور سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کے مطیع تھے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: قل لهم يا محمدُ: {إنَّما أمرتُ أن أعْبُدَ ربَّ هذه البلدةِ}؛ أي: مكةَ المكرمةَ {الذي حرَّمها} وأنعم على أهلِها؛ فيجبُ أن يقابِلوا ذلك بالشكر والقبول، {وله كلُّ شيءٍ}: من العلويَّات والسفليَّات؛ أتى به لئلاَّ يُتَوَهَّم اختصاصُ ربوبيَّتِهِ بالبيت وحدَه. وأمِرْتُ لأن {أكونَ من المسلمينَ} ؛ أي: أبادر إلى الإسلام. وقد فعل - صلى الله عليه وسلم -؛ فإنَّه أول هذه الأمة إسلاماً، وأعظمها استسلاماً.