اور یہ کہ میں قرآن پڑھوں، پھر جو سیدھے راستے پر آجائے تو وہ اپنے ہی لیے راستے پر آتا ہے اور جو گمراہ ہو تو کہہ دے کہ میں تو بس ڈرانے والوں میں سے ہوں۔
En
اور یہ بھی کہ قرآن پڑھا کروں۔ تو جو شخص راہ راست اختیار کرتا ہے تو اپنے ہی فائدے کے لئے اختیار کرتا ہے۔ اور جو گمراہ رہتا ہے تو کہہ دو کہ میں تو صرف نصیحت کرنے والا ہوں
اور میں قرآن کی تلاوت کرتا رہوں، جو راه راست پر آجائے وه اپنے نفع کے لیے راه راست پر آئے گا۔ اور جو بہک جائے تو کہہ دیجئے! کہ میں تو صرف ہوشیار کرنے والوں میں سے ہوں
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَ ﴾”اور“ اسی طرح مجھے یہ حکم بھی دیا گیا ہے ﴿ اَنْاَتْلُوَاالْ٘قُ٘رْاٰنَ﴾”کہ میں تمھارے سامنے قرآن کی تلاوت کروں “ تاکہ تم اس کے ذریعے سے راہ نمائی حاصل کرو اور اس کے الفاظ اور معانی کو سیکھو۔ یہی میری ذمہ داری ہے جو میں نے پوری کر دی ہے۔ ﴿ فَ٘مَنِاهْتَدٰؔىفَاِنَّمَایَهْتَدِیْلِنَفْسِهٖ﴾”پس جو شخص راہ راست اختیار کرتا ہے تو وہ اپنے ہی فائدے کے لیے اختیار کرتا ہے۔“ یعنی اس کا فائدہ اسی کو ہو گا اور وہی اس کا پھل پائے گا۔ ﴿ وَمَنْضَلَّفَقُلْاِنَّمَاۤاَنَامِنَالْمُنْذِرِیْنَ ﴾”اور جو گمراہ رہتا ہے تو کہہ دو کہ میں تو صرف متنبہ کرنے والا ہوں۔“ اور ہدایت میرے ہاتھ میں نہیں ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{و} أُمِرْتُ أيضاً {أنْ أتْلُوَ} عليكم {القرآنَ}: لِتَهْتَدوا به وتَقْتَدوا وتعلموا ألفاظَه ومعانِيَه؛ فهذا الذي عليَّ، وقد أدَّيته، {فَمَنِ اهْتَدى فإنَّما يهتدي لنفسِهِ}: نفعُهُ يعود عليه، وثمرتُهُ عائدةٌ إليه، {ومَن ضلَّ فقُل إنَّما أنا من المنذِرينَ}: وليس بيدي من الهداية شيءٌ.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔