تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النمل (27) — آیت 90

وَ مَنۡ جَآءَ بِالسَّیِّئَۃِ فَکُبَّتۡ وُجُوۡہُہُمۡ فِی النَّارِ ؕ ہَلۡ تُجۡزَوۡنَ اِلَّا مَا کُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۹۰﴾
اور جوبرائی لے کر آئے گا تو ان کے چہرے آگ میں اوندھے ڈالے جائیں گے۔ تم بدلہ نہیں دیے جاؤ گے مگر اسی کا جو تم کیا کرتے تھے۔ En
اور جو برائی لے کر آئے گا تو ایسے لوگ اوندھے منہ دوزخ میں ڈال دیئے جائیں گے۔ تم کو تو اُن ہی اعمال کا بدلہ ملے گا جو تم کرتے رہے ہو
En
اور جو برائی لے کر آئیں گے وه اوندھے منھ آگ میں جھونک دیئے جائیں گے۔ صرف وہی بدلہ دیئے جاؤ گے جو تم کرتے رہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَمَنْ جَآءَ بِالسَّیِّئَةِ اور جو برائی لے کر آئے گا۔ یہ اسم جنس ہے جو ہر قسم کی برائی کو شامل ہے ﴿ فَكُبَّتْ وُجُوْهُهُمْ فِی النَّارِ یعنی انھیں چہروں کے بل جہنم میں پھینکا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا ﴿ هَلْ تُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ تم کو تو ان ہی اعمال کا بدلہ ملے گا جو تم کرتے رہے ہو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ومن جاء بالسيِّئةِ}: اسم جنس يشمل كلَّ سيئةٍ، {فكُبَّتْ وجوهُهُم في النارِ}؛ أي: أُلقوا في النار على وجوههم، ويُقالُ لهم: {هل تُجْزَوْنَ إلاَّ ما كُنتُم تَعْمَلونَ}.