تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النمل (27) — آیت 89

مَنۡ جَآءَ بِالۡحَسَنَۃِ فَلَہٗ خَیۡرٌ مِّنۡہَا ۚ وَ ہُمۡ مِّنۡ فَزَعٍ یَّوۡمَئِذٍ اٰمِنُوۡنَ ﴿۸۹﴾
جو شخص نیکی لے کر آئے گا تو اس کے لیے اس سے بہتر بدلہ ہے اور وہ اس دن گھبراہٹ سے امن میں ہوں گے۔ En
جو شخص نیکی لےکر آئے گا تو اس کے لئے اس سے بہتر (بدلہ تیار) ہے اور ایسے لوگ (اُس روز) گھبراہٹ سے بےخوف ہوں گے
En
جو لوگ نیک عمل ﻻئیں گے انھیں اس سے بہتر بدلہ ملے گا اور وه اس دن کی گھبراہٹ سے بےخوف ہوں گے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر اللہ تعالیٰ نے اس جزا کی کیفیت بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَةِ جو شخص نیکی لے کر آئے گا۔ یہ اسم جنس ہے جو تمام قسم کی قولی، فعلی اور قلبی نیکیوں کو شامل ہے ﴿ فَلَهٗ خَیْرٌ مِّؔنْهَا تو اس کے لیے اس سے بہتر ہے۔ یہ کمترین تفصیل ہے۔(مصنف رحمہ اللہ نے اس مقام پر سبقت قلم سے سورۃ الانعام کی آیت ﴿ فَلَهٗ عَشْ٘رُ اَمْثَالِهَا کی تفسیر کردی ہے) ﴿ وَهُمْ مِّنْ فَزَعٍ یَّوْمَىِٕذٍ اٰمِنُوْنَ یعنی وہ ان تمام امور سے مامون اور مصؤن ہوں گے جن سے مخلوق گھبراہٹ اور خوف میں مبتلا ہو گی اگرچہ وہ بھی ان کے ساتھ گھبرا رہے ہوں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم بيَّن كيفيَّة جزائِهِ، فقال: {من جاء بالحسنةِ}: اسم جنس، يشملُ كلَّ حسنةٍ قوليةٍ أو فعليةٍ أو قلبيةٍ، [فله عشر أمثالها]: هذا أقلُّ التفضيل. {وهم من فزع يومئذٍ آمنونَ}؛ أي: من الأمر الذي فَزِعَ الخلقُ لأجله آمنون، وإنْ كانوا يفزعون معهم.