تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النمل (27) — آیت 83

وَ یَوۡمَ نَحۡشُرُ مِنۡ کُلِّ اُمَّۃٍ فَوۡجًا مِّمَّنۡ یُّکَذِّبُ بِاٰیٰتِنَا فَہُمۡ یُوۡزَعُوۡنَ ﴿۸۳﴾
اور جس دن ہم ہر امت میں سے ایک جماعت اکٹھی کریں گے، ان لوگوں سے جو ہماری آیات کو جھٹلاتے تھے، پھر ان کی قسمیں بنائی جائیں گی۔ En
اور جس روز ہم ہر اُمت میں سے اس گروہ کو جمع کریں گے جو ہماری آیتوں کی تکذیب کرتے تھے تو اُن کی جماعت بندی کی جائے گی
En
اور جس دن ہم ہر امت میں سے ان لوگوں کے گروه کو جو ہماری آیتوں کو جھٹلاتے تھے گھیر گھار کر ﻻئیں گے پھر وه سب کے سب الگ کر دیئے جائیں گے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کے روز جھٹلانے والوں کی حالت بیان کرتا ہے اللہ تعالیٰ ہر امت میں سے ایک گروہ کو اکٹھا کرے گا۔ ﴿ مِّمَّنْ یُّكَذِّبُ بِاٰیٰتِنَا فَهُمْ یُوْزَعُوْنَ جو ہماری آیات کو جھٹلایا کرتے تھے پس ان کو گروہ بندی کے ساتھ ترتیب وار کھڑا کیا جائے گا۔ ان کے اول و آخر سب کو جمع کیا جائے گا سب سے پوچھا جائے گا اور سب کو زجروتوبیخ اور ملامت کی جائے گی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يخبر تعالى عن حالة المكذِّبين في موقف القيامة، وأنَّ الله يجمَعُهم ويحشُرُ من كلِّ أمةٍ من الأمم فوجاً وطائفةً، {مِمَّن يكذِّبُ بآياتِنا فهم يُوزَعون}: يُجْمَعُ أوَّلُهم على آخرهم، وآخرهم على أولهم؛ ليعمَّهم السؤال والتوبيخ واللوم.