اور نہ تو کبھی اندھوں کو ان کی گمراہی سے راہ پر لانے والا ہے، تو نہیں سنائے گا مگر انھی کو جو ہماری آیات پر ایمان رکھتے ہیں، پھر وہ فرماں بردار ہیں۔
En
اور نہ اندھوں کو گمراہی سے (نکال کر) رستہ دیکھا سکتے ہو۔ تم ان ہی کو سنا سکتے ہو جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں اور وہ فرمانبردار ہو جاتے ہیں
اور نہ آپ اندھوں کو ان کی گمراہی سے ہٹا کر رہنمائی کر سکتے ہیں آپ تو صرف انہیں سنا سکتے ہیں جو ہماری آیتوں پر ایمان ﻻئے ہیں پھر وه فرمانبردار ہوجاتے ہیں
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَمَاۤاَنْتَبِهٰؔدِیالْ٘عُمْیِعَنْضَلٰ٘لَتِهِمْ﴾”اور نہ آپ اندھوں کو گمراہی سے (نکال کر) راستہ دکھا سکتے ہیں۔“ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اِنَّكَلَاتَهْدِیْمَنْاَحْبَبْتَوَلٰكِنَّاللّٰهَیَهْدِیْمَنْیَّشَآءُ﴾ (القصص:28؍56) ”آپ جسے چاہیں اسے ہدایت نہیں دے سکتے بلکہ اللہ جسے چاہے ہدایت دیتا ہے۔“﴿ اِنْتُ٘سْمِعُاِلَّامَنْیُّؤْمِنُبِاٰیٰتِنَافَهُمْمُّسْلِمُوْنَ ﴾”آپ تو ان ہی کو سنا سکتے ہیں جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں اور وہ مطیع ہوجاتے ہیں۔“ یہی لوگ جو آپ کے سامنے سر اطاعت خم کرتے ہیں یہی لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی آیات پر ایمان رکھتے ہیں اپنے اعمال اور اپنی اطاعت کے ذریعے سے ان آیات کی اتباع کرتے ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ ﴿ اِنَّمَایَسْتَجِیْبُالَّذِیْنَیَسْمَعُوْنَ١ؔؕوَالْمَوْتٰىیَبْعَثُهُمُاللّٰهُثُمَّاِلَیْهِیُرْجَعُوْنَ﴾ (الانعام:6؍36) ”حق کو صرف وہی لوگ قبول کرتے ہیں جو سنتے ہیں اور مردوں کو تو اللہ تعالیٰ قیامت کے روز زندہ کرے گا پھر وہ اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹائے جائیں گے۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وما أنت بهادي العُمْي عن ضلالتهم}: كما قال تعالى: {إنَّك لا تَهْدي مَنْ أحببتَ ولكنَّ الله يَهْدي مَن يشاءُ}. {إن تُسْمِعُ إلاَّ مَن يؤمنُ بآياتنا فهم مسلمونَ}؛ أي: هؤلاء الذين ينقادون لك، الذين يؤمنون بآيات الله وينقادون لها بأعمالهم واستسلامهم؛ كما قال تعالى: {إنَّما يستجيبُ الذين يسمعونَ. والموتى يبعثُهُم اللهُ ثم إليه يُرْجَعون}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔