اور نہ تو کبھی اندھوں کو ان کی گمراہی سے راہ پر لانے والا ہے، تو نہیں سنائے گا مگر انھی کو جو ہماری آیات پر ایمان رکھتے ہیں، پھر وہ فرماں بردار ہیں۔
En
اور نہ اندھوں کو گمراہی سے (نکال کر) رستہ دیکھا سکتے ہو۔ تم ان ہی کو سنا سکتے ہو جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں اور وہ فرمانبردار ہو جاتے ہیں
اور نہ آپ اندھوں کو ان کی گمراہی سے ہٹا کر رہنمائی کر سکتے ہیں آپ تو صرف انہیں سنا سکتے ہیں جو ہماری آیتوں پر ایمان ﻻئے ہیں پھر وه فرمانبردار ہوجاتے ہیں
En
(آیت81){ وَمَاۤاَنْتَبِهٰدِيالْعُمْيِ …:} یعنی آپ دل کے اندھوں کو راہ راست پر نہیں لا سکتے، آپ تو اسی کو سنائیں گے اور اسی کو راہ راست پر لائیں گے جو ہماری آیتوں کو سن کر ان کا اثر قبول کرتے ہیں اور اثر قبول کرنا یہی ہے کہ آپ کی دعوت پر ایمان لے آئیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
81-1یعنی جن کو اللہ تعالیٰ حق سے اندھا کر دے، آپ ان کی اس طرح رہنمائی نہیں فرما سکتے جو انھیں مطلوب یعنی ایمان تک پہنچا دے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
81۔ اور نہ ہی آپ اندھوں [85] کو ان کی گمراہی سے بچا کر راہ راست پر لا سکتے ہیں آپ تو صرف [86] ان کو سنا سکتے ہیں جو ہماری آیات پر ایمان لاتے ہیں پھر فرمانبردار بن جاتے ہیں
[85] ہدایت پانے کی چار ممکنہ صورتیں:۔
یعنی ان کافروں کے ہدایت پانے کی چار ہی صورتیں ممکن ہیں۔ جن میں سے دو سننے سے تعلق رکھتی ہیں اور دو دیکھنے سے۔ سننے کی پھر دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ صرف زندہ سن سکتا ہے۔ مردہ نہیں سن سکتا۔ اب چونکہ ان کے دل مر چکے ہیں۔ لہٰذا اس طریقہ سے ان کی ہدایت ناممکن ہوتی۔ دوسری صورت یہ ہے کہ سماعت رکھنے والا تو بات سن سکتا ہے۔ لیکن بہرا نہیں سن سکتا۔ یہ لوگ چونکہ دل کے بہرے ہیں۔ لہٰذا یہ صورت بھی ناممکن ہوئی۔ تیسری صورت یہ تھی کہ ہو تو بہرا مگر کم از کم وہ توبہ تو کرتا ہو۔ اور بات سننے کی کچھ خواہش تو رکھتا ہو۔ اس صورت میں بھی کچھ اشاروں اور انداز خطاب سے اس کے کچھ نہ کچھ پلے پڑ سکتا تھا۔ مگر یہ لوگ تو پیٹھ پھیرے بھاگے جا رہے ہیں لہٰذا یہ تیسری صورت بھی ناممکن ہوئی۔ اور چوتھی صورت یہ ہے کہ ہدایت کا طالب اگر کچھ سن سکتا تو دیکھ کر بات سمجھ لے۔ اگر اسے کوئی اشارہ سے راہ بتلائے تو سیدھی کی راہ کی طرف آئے۔ یا کم از کم جو لوگ سیدھی راہ پر چل رہے ہیں انھیں دیکھ کر ہی ان کے پیچھے ہولے۔ اب یہ کفار چونکہ دلوں کے اندھے بھی ہیں۔ لہٰذا ان کے ہدایت پانے کی چوتھی صورت بھی ناممکن ہو گئی۔ لہٰذا ایسے مردہ دل، دل کے بہرے اور اندھے لوگوں سے ہدایت پانے اور اسلام لانے کی توقع رکھنا بے کار ہے۔ [86] یعنی آپ کی نصیحت اور ہدایت صرف ان لوگوں کے حق میں مفید ہو سکتی ہے۔ جو خود بھی ہدایت کے طالب ہوں۔ آپ کی باتوں کو غور سے سنتے ہوں ان کے دل زندہ ہوں۔ دل کے کانوں سے سنتے ہوں۔ اور دل کی آنکھوں سے اللہ کی آیات میں غور و فکر کرتے ہوں۔ اور ایسے ہی لوگ ایمان لاتے ہیں۔ اور ایسے ہی لوگوں سے ایمان لانے اور ہدایت پانے کی توقع کی جا سکتی ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَمَاۤاَنْتَبِهٰؔدِیالْ٘عُمْیِعَنْضَلٰ٘لَتِهِمْ﴾”اور نہ آپ اندھوں کو گمراہی سے (نکال کر) راستہ دکھا سکتے ہیں۔“ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اِنَّكَلَاتَهْدِیْمَنْاَحْبَبْتَوَلٰكِنَّاللّٰهَیَهْدِیْمَنْیَّشَآءُ﴾ (القصص:28؍56) ”آپ جسے چاہیں اسے ہدایت نہیں دے سکتے بلکہ اللہ جسے چاہے ہدایت دیتا ہے۔“﴿ اِنْتُ٘سْمِعُاِلَّامَنْیُّؤْمِنُبِاٰیٰتِنَافَهُمْمُّسْلِمُوْنَ ﴾”آپ تو ان ہی کو سنا سکتے ہیں جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں اور وہ مطیع ہوجاتے ہیں۔“ یہی لوگ جو آپ کے سامنے سر اطاعت خم کرتے ہیں یہی لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی آیات پر ایمان رکھتے ہیں اپنے اعمال اور اپنی اطاعت کے ذریعے سے ان آیات کی اتباع کرتے ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ ﴿ اِنَّمَایَسْتَجِیْبُالَّذِیْنَیَسْمَعُوْنَ١ؔؕوَالْمَوْتٰىیَبْعَثُهُمُاللّٰهُثُمَّاِلَیْهِیُرْجَعُوْنَ﴾ (الانعام:6؍36) ”حق کو صرف وہی لوگ قبول کرتے ہیں جو سنتے ہیں اور مردوں کو تو اللہ تعالیٰ قیامت کے روز زندہ کرے گا پھر وہ اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹائے جائیں گے۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وما أنت بهادي العُمْي عن ضلالتهم}: كما قال تعالى: {إنَّك لا تَهْدي مَنْ أحببتَ ولكنَّ الله يَهْدي مَن يشاءُ}. {إن تُسْمِعُ إلاَّ مَن يؤمنُ بآياتنا فهم مسلمونَ}؛ أي: هؤلاء الذين ينقادون لك، الذين يؤمنون بآيات الله وينقادون لها بأعمالهم واستسلامهم؛ كما قال تعالى: {إنَّما يستجيبُ الذين يسمعونَ. والموتى يبعثُهُم اللهُ ثم إليه يُرْجَعون}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔