تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النمل (27) — آیت 80

اِنَّکَ لَا تُسۡمِعُ الۡمَوۡتٰی وَ لَا تُسۡمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ اِذَا وَلَّوۡا مُدۡبِرِیۡنَ ﴿۸۰﴾
بے شک تو نہ مُردوں کو سناتا ہے اور نہ بہروں کو اپنی پکار سناتا ہے، جب وہ پیٹھ پھیر کر پلٹ جائیں۔ En
کچھ شک نہیں کہ تم مردوں کو (بات) نہیں سنا سکتے اور نہ بہروں کو جب کہ وہ پیٹھ پھیر کر پھر جائیں آواز سنا سکتے ہو
En
بیشک آپ نہ مُردوں کو سنا سکتے ہیں اور نہ بہروں کو اپنی پکار سنا سکتے ہیں، جبکہ وه پیٹھ پھیرے روگرداں جا رہے ہوں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

جب آپ حق کی خاطر کھڑے ہو جاتے ہیں اور اس بارے میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتے ہیں تو کسی کا گمراہ ہونا آپ کو کوئی نقصان نہیں دے سکتا اور ان کو ہدایت دینا آپ کی ذمہ داری نہیں ہے، اس لیے فرمایا: ﴿اِنَّكَ لَا تُ٘سْمِعُ الْمَوْتٰى وَ لَا تُ٘سْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ کچھ شک نہیں کہ آپ مردوں کو سنا سکتے ہیں نہ بہروں کو۔ یعنی جب آپ ان کو پکارتے اور ندا دیتے ہیں اور خاص طور پر ﴿ اِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِیْنَ اس وقت جبکہ وہ منہ پھیر کر جا رہے ہوں تب یہ عدم سماع کی انتہا کو پہنچے ہوئے ہوتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وإذا قمتَ بما حملت وتوكلَّت على الله في ذلك؛ فلا يضرُّك ضلالُ مَن ضلَّ وليس عليك هداهم؛ فلهذا قال: {إنَّك لا تُسْمِعُ الموتى ولا تُسْمِعُ الصمَّ الدُّعاء}؛ أي: حين تدعوهم وتناديهم، وخصوصاً: {إذا وَلَّوْا مُدْبِرينَ}: فإنه يكون أبلغَ في عدم إسماعهم.