تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النمل (27) — آیت 79

فَتَوَکَّلۡ عَلَی اللّٰہِ ؕ اِنَّکَ عَلَی الۡحَقِّ الۡمُبِیۡنِ ﴿۷۹﴾
پس اللہ پر بھروسا کر، یقینا تو واضح حق پر ہے۔ En
تو خدا پر بھروسہ رکھو تم تو حق صریح پر ہو
En
پس آپ یقیناً اللہ ہی پر بھروسہ رکھیے، یقیناً آپ سچے اور کھلے دین پر ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یعنی جلب منفعت، دفع ضرر، تبلیغ رسالت، اقامت دین اور دشمنان اسلام کے خلاف جہاد کرنے میں آپ اپنے رب پر بھروسہ کیجیے! ﴿ اِنَّكَ عَلَى الْحَقِّ الْمُبِیْنِ بے شک آپ واضح حق پر ہیں۔ وہ شخص جو حق پر ہو، حق کی طرف دعوت دیتا ہو اور اس کی مدد کرتا ہو، اللہ تعالیٰ پر توکل کرنے میں کسی دوسرے کی نسبت زیادہ مستحق ہے۔ کیونکہ وہ ایک ایسے معاملے کے لیے کوشاں ہے جس کی صداقت قطعی ہے اور جس میں کوئی شک و شبہ نہیں، نیز یہ انتہائی واضح طور پر حق ہے یہ کوئی چھپی ہوئی چیز ہے نہ اس میں کوئی اشتباہ ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: اعتمدْ على ربِّك في جلب المصالح ودفع المضارِّ وفي تبليغ الرسالة وإقامة الدين وجهاد الأعداء. {إنَّك على الحقِّ المُبين}: الواضح، والذي على الحقِّ يدعو إليه ويقوم بنصرته أحقُّ من غيرِهِ بالتوكُّل؛ فإنَّه يسعى في أمر مجزوم به، معلوم صدقه، لا شكَّ فيه ولامِرْيَةَ، وأيضاً؛ فهو حقٌّ في غاية البيان، لا خفاء به ولا اشتباه.