(آیت 79) {فَتَوَكَّلْعَلَىاللّٰهِ …:} اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فیصلے کا انتظار کرتے ہوئے اس پر بھروسا رکھیں، دشمنوں کی تکذیب، استہزا، ایذا رسانیاں اور سازشیں اگرچہ پریشان کرنے والی ہیں، مگر آپ اپنے تمام معاملات اللہ کے سپرد کر دیں، کیونکہ آپ واضح حق پر ہیں جس کے سچا ہونے میں کوئی شبہ نہیں اور جو حق پر ہو اسے فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں، کیونکہ غلبہ آخر کار حق ہی کا ہو گا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
79-1یعنی اپنا معاملہ اسی کے سپرد کردیں اور اسی پر اعتماد کریں، وہی آپ کا مددگار ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
79۔ آپ اللہ پر بھروسہ کیجئے۔ یقیناً آپ [83] صریح حق پر ہیں۔
[83] یعنی قریش کی تکذیب، استہزا اور ایذا رسانیاں اور سازشیں فی الواقع پریشان کرنے والی باتیں ہیں۔ آپ ان سے زیادہ تاثر نہ لیں۔ بلکہ ہر وقت اللہ پر بھروسہ کریں۔ آپ یقیناً صحیح راستہ پر جا رہے ہیں اور اللہ ہمیشہ حق کا ساتھ دیتا ہے۔ لہٰذا وہ ضرور اور بروقت آپ کی مدد کرے گا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
یعنی جلب منفعت، دفع ضرر، تبلیغ رسالت، اقامت دین اور دشمنان اسلام کے خلاف جہاد کرنے میں آپ اپنے رب پر بھروسہ کیجیے! ﴿ اِنَّكَعَلَىالْحَقِّالْمُبِیْنِ ﴾”بے شک آپ واضح حق پر ہیں۔“ وہ شخص جو حق پر ہو، حق کی طرف دعوت دیتا ہو اور اس کی مدد کرتا ہو، اللہ تعالیٰ پر توکل کرنے میں کسی دوسرے کی نسبت زیادہ مستحق ہے۔ کیونکہ وہ ایک ایسے معاملے کے لیے کوشاں ہے جس کی صداقت قطعی ہے اور جس میں کوئی شک و شبہ نہیں، نیز یہ انتہائی واضح طور پر حق ہے یہ کوئی چھپی ہوئی چیز ہے نہ اس میں کوئی اشتباہ ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: اعتمدْ على ربِّك في جلب المصالح ودفع المضارِّ وفي تبليغ الرسالة وإقامة الدين وجهاد الأعداء. {إنَّك على الحقِّ المُبين}: الواضح، والذي على الحقِّ يدعو إليه ويقوم بنصرته أحقُّ من غيرِهِ بالتوكُّل؛ فإنَّه يسعى في أمر مجزوم به، معلوم صدقه، لا شكَّ فيه ولامِرْيَةَ، وأيضاً؛ فهو حقٌّ في غاية البيان، لا خفاء به ولا اشتباه.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔