(کیا وہ شریک بہتر ہیں) یا وہ جس نے زمین کو ٹھہرنے کی جگہ بنایا اور اس کے درمیان نہریں بنائیں اور اس کے لیے پہاڑ بنائے اور دو سمندروں کے درمیان رکاوٹ بنا دی؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی (اور) معبود ہے؟ بلکہ ان کے اکثر نہیں جانتے۔
En
بھلا کس نے زمین کو قرار گاہ بنایا اور اس کے بیچ نہریں بنائیں اور اس کے لئے پہاڑ بنائے اور (کس نے) دو دریاؤں کے بیچ اوٹ بنائی (یہ سب کچھ خدا نے بنایا) تو کیا خدا کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے؟ (ہرگز نہیں) بلکہ ان میں اکثر دانش نہیں رکھتے
کیا وه جس نے زمین کو قرار گاه بنایا اور اس کے درمیان نہریں جاری کر دیں اور اس کے لیے پہاڑ بنائے اور دو سمندروں کے درمیان روک بنا دی کیا اللہ کے ساتھ اور کوئی معبود بھی ہے؟ بلکہ ان میں سے اکثر کچھ جانتے ہی نہیں
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
یعنی کیا یہ بت اور اصنام جو ہر لحاظ سے ناقص ہیں، جن سے کوئی فعل صادر نہیں ہوتا، جو رزق دینے پر قادر ہیں نہ کوئی نفع پہچانے کی قدرت رکھتے ہیں، وہ بہتر ہیں یا اللہ تعالیٰ؟ جس نے ﴿ اَمَّنْجَعَلَالْاَرْضَقَ٘رَارًا ﴾”زمین کو قرار گاہ بنایا۔“ جہاں بندے گھر اور ٹھکانا بناتے ہیں، کھیتی باڑی کرتے ہیں، عمارتیں تعمیر کرتے ہیں اور ادھر ادھر آتے جاتے ہیں۔ ﴿ وَّجَعَلَخِلٰ٘لَهَاۤاَنْ٘هٰرًا ﴾ یعنی ا س نے زمین کے اندر دریا جاری كيے جن سے اس کے بندے اپنے کھیتیوں اور باغات میں فائدہ اٹھاتے ہیں، ان سے خود پانی پیتے ہیں اور اپنے جانوروں کو پلاتے ہیں۔
﴿ وَّجَعَلَلَهَارَوَاسِیَ ﴾”اور رکھ دیے اس کے اندر بوجھ۔“ یعنی زمین کے اندر پہاڑ جما دیے جو اسے مضبوط رکھتے ہیں تاکہ یہ کہیں ڈھلک نہ جائے اور پہاڑ میخوں کا کام دیں تاکہ زمین نہ ہلے۔ ﴿ وَجَعَلَبَیْنَالْبَحْرَیْنِ ﴾”دو دریاؤں کے مابین بنائی۔“ یعنی نمکین اور کھاری سمندر اور میٹھے سمندر کے درمیان ﴿حَاجِزًا﴾”رکاوٹ۔“ جو ان دونوں کو خلط ملط ہونے سے روکے ہوئے ہے تاکہ کہیں ایسا نہ ہو کہ دونوں پانیوں کی منفعت مقصود ضائع ہو جائے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کے درمیان زمین کی رکاوٹ حائل کر دی۔ اللہ تعالیٰ نے دریاؤں کی گزر گاہوں کو سمندر سے بہت دور رکھا ہے تاکہ دریاؤں سے مصالح اور مقاصد کا حصول ممکن ہو۔
﴿ ءَاِلٰهٌمَّعَاللّٰهِ﴾”کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود ہے“ جو یہ تمام افعال سرانجام دیتا ہو اور یوں اسے اللہ تعالیٰ کا ہمسر قرار دے کر اسے اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرایا جائے؟ ﴿ بَلْاَكْثَرُهُمْلَایَعْلَمُوْنَ﴾”بلکہ اکثر لوگ نہیں جانتے“ اس لیے وہ اپنے سرداروں کی تقلید کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرتے ہیں ورنہ اگر انھیں پوری طرح علم ہوتا تو وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کبھی شرک نہ کرتے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: هل الأصنام والأوثان الناقصة من كلِّ وجه التي لا فعلَ منها ولا رزقَ ولا نفعَ خيرٌ أم الله الذي {جعل الأرضَ قَراراً}: يستقرُّ عليها العبادُ ويتمكَّنون من السكنى والحرث والبناء والذَّهاب والإياب، {وجَعَلَ خلالها أنهاراً}؛ أي: جعل في خلال الأرض أنهاراً ينتفعُ بها العبادُ في زُروعهم وأشجارهم وشُربهم وشربِ مواشيهم، {وجَعَلَ لها رَواسي}؛ أي: جبالاً تُرسيها وتُثبتها لئلاَّ تميدَ وتكون أوتاداً لها لئلا تضطرِبَ، {وجعل بين البحرينِ}: البحر المالح والبحر العذب {حاجزاً}: يمنعُ من اختلاطِهِما فتفوت المنفعةُ المقصودة من كل منهما، بل جعل بينَهما حاجزاً من الأرض؛ جعل مجرى الأنهار في الأرض مبعدة عن البحار، فيحصُلُ منها مقاصدُها ومصالحها. {أإلهٌ مع الله}: فعل ذلك حتى يُعْدَلَ بهِ اللهُ ويُشْرَكَ به معه، {بل أكثرُهم لا يعلمون}: فيشركون بالله تقليداً لرؤسائهم، وإلاَّ؛ فلو علموا حقَّ العلم لم يشركوا به شيئاً.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔