تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { وَ جَعَلَ خِلٰلَهَاۤ اَنْهٰرًا:} نہروں سے مراد تمام ندی نالے اور دریا وغیرہ ہیں، انھیں ایک تو بارش سے پانی مہیا ہوتا ہے، بارش کا کچھ پانی زمین اپنے اندر جذب کر لیتی ہے، باقی زائد پانی ندی نالوں کی طرف رخ کر لیتا ہے۔ ان کا سب سے بڑا منبع پہاڑ اور پہاڑوں کے درمیان چشمے ہیں۔ سردیوں میں پہاڑوں پر برف جم جاتی ہے جو گرمیوں میں پگھل کر پہلے ندی نالوں کی اور پھر دریاؤں کی صورت اختیار کر لیتی ہے، یا یہ پانی پہلے سے بنے ہوئے ندی نالوں کا رخ اختیار کر لیتا ہے۔ انھی کے ذریعے سے ان علاقوں میں سیرابی ہوتی ہے جہاں بارش کم ہوتی ہے، یا وقت پر نہیں ہوتی اور نہروں کا بالخصوص ذکر اس لیے فرمایا کہ تمام نباتات اور جانداروں کی زندگی اور نشوونما کا دارومدار پانی پر ہے۔ ہوا کے بعد پانی ایسی اہم چیز ہے جس کے بغیر کوئی چیز اپنی زندگی باقی نہیں رکھ سکتی۔ (کیلانی)
➌ { وَ جَعَلَ بَيْنَ الْبَحْرَيْنِ حَاجِزًا:} اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ فرقان (۵۳)۔
➍ { بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ:} یعنی اکثر مشرکین حق کا علم نہیں رکھتے، اس لیے اللہ کے ساتھ شریک بناتے ہیں۔ اکثر اس لیے فرمایا کہ کچھ ایسے بھی ہیں جو حق کا علم رکھتے ہیں، مگر عناد کی وجہ سے اسے قبول نہیں کرتے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[63] نہروں سے مراد تمام ندی، نالے اور دریا وغیرہ ہیں انھیں ایک تو بارش سے پانی مہیا ہوتا ہے بارش کا کچھ پانی زمین اپنے اندر جذب کر لیتی ہے باقی زائد پانی ندی نالوں کی طرف رخ کر لیتا ہے۔ اور ان کا سب سے بڑا منبع پہاڑ اور پہاڑوں کے درمیان چشمے ہیں سردیوں میں پہاڑوں پر برف جم جاتی ہے جو گرمیوں میں پگھل کر پہلے ندی نالوں کی اور پھر دریاؤں کی صورت اختیار کر لیتی ہے یا یہ پانی پہلے سے بنے ہوئے ندی نالوں کا رخ اختیار کر لیتا ہے۔ انھیں کے ذریعہ ان علاقوں میں سیرابی ہوتی ہے۔ جہاں بارش کم ہوتی ہے یا وقت پر نہیں ہوتی۔ اور نہروں کا بالخصوص ذکر اس لئے فرمایا کہ تمام نباتات اور جانداروں کی زندگی اور نشو و نما کا دارومدار پانی پر ہے۔ ہوا کے بعد پانی میں ایسی اہم چیز ہے جس کے بغیر کوئی چیز اپنی زندگی باقی نہیں رکھ سکتی۔
[64] اس کی تشریح کے لئے سورۃ فرقان کی آیت نمبر 53 کی حاشیہ نمبر 66 ملاحظہ فرمائیے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
کھاری پانی اپنی فوائد سے لوگوں کو سود مند کرے یہ ہرطرف سے گھیرے ہوئے ہے تاکہ ہوا خراب نہ ہو۔ اور اس آیت میں بھی ہے ان دونوں کا بیان موجود ہے «وَهُوَ الَّذِيْ مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ ھٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ وَّھٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌ» [25-الفرقان:53] ’ یعنی ان دونوں سمندروں کا جاری کرنے والا اللہ ہی ہے اور اسی لیے ان دونوں کے درمیاں حد فاصل قائم کر رکھی ہے۔ ‘
یہاں یہ قدرتیں اپنی جتاکر۔ پھر سوال کرتا ہے کہ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور بھی ایسا ہے جس نے یہ کام کئے ہوں یا کرسکتا ہو؟ تاکہ وہ بھی لائق عبادت سمجھاجائے۔ اکثر لوگ محض بےعلمی سے غیر اللہ کی عبادت کرتے ہیں۔ عبادتوں کے لائق صرف وہی ایک ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: هل الأصنام والأوثان الناقصة من كلِّ وجه التي لا فعلَ منها ولا رزقَ ولا نفعَ خيرٌ أم الله الذي {جعل الأرضَ قَراراً}: يستقرُّ عليها العبادُ ويتمكَّنون من السكنى والحرث والبناء والذَّهاب والإياب، {وجَعَلَ خلالها أنهاراً}؛ أي: جعل في خلال الأرض أنهاراً ينتفعُ بها العبادُ في زُروعهم وأشجارهم وشُربهم وشربِ مواشيهم، {وجَعَلَ لها رَواسي}؛ أي: جبالاً تُرسيها وتُثبتها لئلاَّ تميدَ وتكون أوتاداً لها لئلا تضطرِبَ، {وجعل بين البحرينِ}: البحر المالح والبحر العذب {حاجزاً}: يمنعُ من اختلاطِهِما فتفوت المنفعةُ المقصودة من كل منهما، بل جعل بينَهما حاجزاً من الأرض؛ جعل مجرى الأنهار في الأرض مبعدة عن البحار، فيحصُلُ منها مقاصدُها ومصالحها. {أإلهٌ مع الله}: فعل ذلك حتى يُعْدَلَ بهِ اللهُ ويُشْرَكَ به معه، {بل أكثرُهم لا يعلمون}: فيشركون بالله تقليداً لرؤسائهم، وإلاَّ؛ فلو علموا حقَّ العلم لم يشركوا به شيئاً.