(کیا وہ شریک بہتر ہیں) یا وہ جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور تمھارے لیے آسمان سے پانی اتارا، پھر ہم نے اس کے ساتھ رونق والے باغات اگائے، تمھارے بس میں نہ تھا کہ ان کے درخت اگاتے، کیا اللہ کے ساتھ کوئی (اور) معبود ہے؟ بلکہ یہ ایسے لوگ ہیں جو راستے سے ہٹ رہے ہیں۔
En
بھلا کس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور (کس نے) تمہارے لئے آسمان سے پانی برسایا۔ (ہم نے) پھر ہم ہی نے اس سے سرسبز باغ اُگائے۔ تمہارا کام تو نہ تھا کہ تم اُن کے درختوں کو اگاتے۔ تو کیا خدا کے ساتھ کوئی اور بھی معبود ہے؟ (ہرگز نہیں) بلکہ یہ لوگ رستے سے الگ ہو رہے ہیں
بھلا بتاؤ تو؟ کہ آسمانوں کو اور زمین کو کس نے پیدا کیا؟ کس نے آسمان سے بارش برسائی؟ پھر اس سے ہرے بھرے بارونق باغات اگا دیئے؟ ان باغوں کے درختوں کو تم ہر گز نہ اگا سکتے، کیا اللہ کے ساتھ اور کوئی معبود بھی ہے؟ بلکہ یہ لوگ ہٹ جاتے ہیں (سیدھی راه سے)
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تعالیٰ نے ان تمام تفاصیل کا ذکر کیا ہے جن سے صاف واضح ہو جاتا ہے کہ وہی الٰہ معبود ہے، صرف اسی کی عبادت حق اور اس کے سوا دوسروں کی عبادت باطل ہے، چنانچہ فرمایا:
یعنی، بھلا وہ کون ہے جس نے آسمانوں کو اور ان کے اندر سورج، چاند، ستاروں اورفرشتوں کو، نیز زمین کو اور اس کے اندر پہاڑوں، سمندروں، دریاؤں اور درختوں وغیرہ کو پیدا کیا؟
﴿وَاَنْزَلَلَكُمْ ﴾”اور نازل کیا تمھارے لیے“ یعنی تمھاری خاطر ﴿ مِّنَالسَّمَآءِمَآءً١ۚفَاَنْۢبـَتْنَابِهٖحَدَآىِٕقَ ﴾”آسمان سے پانی، پھر ہم ہی نے اس سے باغات اگائے۔“﴿ ذَاتَبَهْجَةٍ﴾”رونق والے۔“ یعنی وہ درختوں کی کثرت، ان کے تنوع اور اچھے پھلوں کی وجہ سے خوبصورت منظر پیش کرتے ہیں۔ ﴿ مَاكَانَلَكُمْاَنْتُنْۢبِتُوْاشَجَرَهَا﴾ اگر بارش نازل کر کے تم پر اللہ تعالیٰ نے احسان نہ کیا ہوتا تو تم ان درختوں کو کبھی اگانہ سکتے۔ ﴿ ءَاِلٰهٌمَّعَاللّٰهِ ﴾”کیا اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی اور معبود ہے“ جو یہ افعال سرانجام دیتا ہو اور اس بنا پر اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس کی بھی عبادت کی جائے؟ ﴿ بَلْهُمْقَوْمٌیَّعْدِلُوْنَ﴾”بلکہ یہ لوگ (تو اللہ تعالیٰ کے) ہمسر ٹھہراتے ہیں۔“ اس حقیقت کا علم رکھنے کے باوجود کہ اللہ تعالیٰ اکیلا عالم علوی اور عالم سفلی کا خالق اور رزق نازل کرنے والا ہے، وہ غیر اللہ کو اللہ تعالیٰ کا شریک بناتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: أمَّن خَلَقَ السماواتِ وما فيها من الشمس والقمر والنجوم والملائكة والأرض وما فيها من جبال وبحار وأنهار وأشجار وغير ذلك، {وأنزل لكم}؛ أي: لأجلكم {من السماءِ ماءً فأنْبَتْنا به حدائقَ}؛ أي: بساتين {ذاتَ بهجةٍ}؛ أي: حسن منظر من كثرة أشجارها وتنوُّعها وحسنِ ثمارها. {ما كانَ لكُم أن تُنبِتوا شَجَرَها}: لولا مِنَّةُ الله عليكم بإنزال المطر. {أإلهٌ مع اللهِ}: فَعَلَ هذه الأفعالَ حتى يُعبد معه ويُشرَك به، {بل هم قوم يعدِلونَ}: به غيره، ويسوُّون به سواه، مع علمِهِم أنَّه وحده خالقُ العالم العلويِّ والسفليِّ ومنزلُ الرزق.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔