(آیت 53،52) ➊ {فَتِلْكَبُيُوْتُهُمْخَاوِيَةًۢ:”خَاوِيَةًۢ“} کا معنی گرنے والے بھی ہیں، جیسا کہ سورۂ بقرہ (۲۵۹) میں ہے: «{وَهِيَخَاوِيَةٌعَلٰىعُرُوْشِهَا}» اور خالی بھی ہے، جیسے: {”أَرْضٌخَاوِيَةٌأَيْخَالِيَةٌ۔“} (قاموس) مکہ والے شام کو جاتے تو راستے میں وادی القریٰ میں ثمود کی بستیوں کے کھنڈر دیکھتے تھے، عالی شان عمارتیں پیوند زمین تھیں، آبادی کا نام و نشان نہ تھا۔ ➋ { اِنَّفِيْذٰلِكَلَاٰيَةًلِّقَوْمٍيَّعْلَمُوْنَ …:} یعنی جاہلوں کے لیے ان اجڑے ہوئے مکانوں اور کھنڈروں میں کوئی عبرت نہیں، ان کے خیال میں اس زلزلے کا صالح علیہ السلام اور ان کی اونٹنی سے، یا اس قوم کے کفر و شرک یا سرکشی سے کوئی تعلق نہیں، دنیا میں ایسا ہوتا ہی رہتا ہے۔ (دیکھیے اعراف: ۹۴، ۹۵) یہ علم والے ہی ہیں جو جانتے ہیں کہ دنیا میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے ایک کمال حکمت و قدرت والے پروردگار کے حکم کے تحت ہو رہا ہے۔ وہ جب چاہتا ہے بے راہ روی اور ظلم و ستم کی سزا دنیا میں بھی دے دیتا ہے، اس لیے وہ جب ایسی بستیوں پر گزرتے ہیں جو عذابِالٰہی سے برباد ہوئیں تو ان سے عبرت حاصل کرتے اور اللہ کی گرفت سے ڈر کر توبہ و استغفار کرتے ہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
52۔ سو یہ ہیں ان کے خالی پڑے ہوئے گھر، اس ظلم کی پاداش میں جو وہ کیا کرتے تھے۔ اس واقعہ میں بھی ایک نشان عبرت ہے ان لوگوں کے لئے جو علم [52] رکھتے ہیں۔
[52] اس جملہ کے کئی مطلب ہو سکتے ہیں ایک یہ کہ وہی لوگ عبرت حاصل کرتے ہیں جو ان کھنڈرات کو دیدہ بینا سے دیکھتے ہیں۔ دوسرے یہ کہ وہ جو اقوام عالم کے عروج و زوال کے قانون سے واقف ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ قوم نے رسولوں کی تکذیب کی اور انھیں دکھ پہنچایا۔ وہ تباہ و برباد ہو کے رہی۔ تیسرے یہ کہ وہ لوگ اللہ تعالیٰ کو طبیعی اسباب کا پابند نہیں سمجھتے بلکہ یہ جانتے ہیں کہ طبیعی اسباب کا خالق وہ خود ہے اور ان میں جب چاہے رد و بدل بھی کر سکتا ہے اور سبب اور مسبب کا تعلق توڑ بھی سکتا ہے۔ ظاہری اور باطنی سب اسباب اسی کے قبضہ قدرت میں ہیں اور وہ یوں نہیں کہہ دیتے کہ فلاں عذاب مثلاً زلزلہ تو محض طبیعی اسباب کی بنا پر آیا تھا اس کا لوگوں کے گناہوں سے کیا تعلق؟
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿فَتِلْكَبُیُوْتُهُمْخَاوِیَةً﴾”اب ان کے یہ گھر خالی پڑے ہیں۔“ یعنی ان کی دیواریں چھتوں سمیت منہدم ہو گئیں، گھر اجڑ گئے اور اپنے رہنے والوں سے خالی ہو گئے ﴿ بِمَاظَلَمُوْا﴾”بسبب اس کے جو انھوں نے ظلم کیا۔“ یعنی یہ تھا ان کے ظلم، اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان کے شرک اور زمین میں ان کی سرکشی کا انجام۔ ﴿اِنَّفِیْذٰلِكَلَاٰیَةًلِّقَوْمٍیَّعْلَمُوْنَ﴾”بے شک اس میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو (حقائق کو) جانتے ہیں “ وہ اللہ تعالیٰ کے اولیاء اور اس کے دشمنوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی جو عادت رہی ہے اس میں غوروفکر کرتے ہیں اور اس سے عبرت حاصل کرتے ہیں، وہ خوب جانتے ہیں کہ ظلم کا انجام تباہی اور ہلاکت ہے۔ ایمان اور عدل کا انجام نجات اور کامیابی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{فتلك بيوتُهم خاويةٌ}: قد تهدَّمت جدرانُها على سقوفِها، وأوحشتْ من ساكِنِها، وعطِّلَتْ من نازليها {بما ظَلَموا}؛ أي: هذا عاقبةُ ظلمهم وشِرْكِهم بالله وبغيِهِم في الأرض. {إنَّ في ذلك لآيةً لقومٍ يعلمونَ}: الحقائق، ويتدبَّرون وقائعَ الله في أوليائِهِ وأعدائِهِ، فيعتبِرون بذلك، ويعلمون أنَّ عاقبة الظُّلم الدَّمار والهلاك، وأنَّ عاقبة الإيمان والعدل النجاة والفوز.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔