انھوں نے کہا آپس میں اللہ کی قسم کھائو کہ ہم ضرور ہی اس پر اور اس کے گھر والوں پر رات حملہ کریں گے، پھر ضرور ہی اس کے وارث سے کہہ دیں گے ہم اس کے گھر والوں کی ہلاکت کے وقت موجود نہ تھے اور بلاشبہ ہم ضرور سچے ہیں۔
En
کہنے لگے کہ خدا کی قسم کھاؤ کہ ہم رات کو اس پر اور اس کے گھر والوں پر شب خون ماریں گے پھر اس کے وارث سے کہہ دیں گے کہ ہم تو صالح کے گھر والوں کے موقع ہلاکت پر گئے ہی نہیں اور ہم سچ کہتے ہیں
انہوں نے آپس میں بڑی قسمیں کھا کھا کر عہد کیا کہ رات ہی کو صالح اور اس کے گھر والوں پر ہم چھاپہ ماریں گے، اور اس کے وارﺛوں سے صاف کہہ دیں گے کہ ہم اس کے اہل کی ہلاکت کے وقت موجود نہ تھے اور ہم بالکل سچے ہیں
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
وہ اسی بری حالت میں رہے حتیٰ کہ ان کی عداوت یہاں تک پہنچ گئی ﴿ تَقَاسَمُوْا﴾”انھوں نے آپس میں ایک دوسرے کو قسم دے کر کہا“﴿ لَنُبَیِّتَنَّهٗ۠وَاَهْلَهٗ﴾”ہم رات کو اس پر اور اس کے گھر والوں پر شب خون ماریں گے۔“ یعنی ہم رات کے وقت اس کے اور اس کے اہل خانہ کے پاس آئیں گے اور انھیں قتل کر دیں گے ﴿ ثُمَّلَنَقُوْلَ٘نَّلِوَلِیِّهٖ﴾”پھر ہم اسے کے وارث کو کہہ دیں گے۔“ جب وہ کھڑا ہو کر ہمارے خلاف قتل کا دعویٰ کرے تو ہم حلف اٹھا کر اس کا انکار کر دیں گے اور کہیں گے۔ ﴿ مَاشَهِدْنَامَهْلِكَاَهْلِهٖ٘وَاِنَّالَصٰدِقُوْنَ﴾”ہم اس کے اہل کی ہلاکت کے وقت موجود نہیں تھے اور ہم سچے ہیں۔“ پس انھوں نے اس پر ایکا کرلیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فلم يزالوا بهذه الحال الشنيعةِ حتى أنَّهم من عداوتهم {تقاسموا} فيما بينَهم؛ كلُّ واحدٍ أقسم للآخر: {لَنُبَيِّتَنَّهُ وأهلَه}؛ أي: لنأتِيَنَّهم ليلاً هو وأهله، فلنقتلنّهم، {ثم لنقولَنَّ لوليِّه}: إذا قام علينا وادَّعى علينا أنَّا قَتَلْناهم؛ ننكِرُ ذلك وننفيه ونحلفُ: {إنَّا لَصادِقونَ}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔