پس وہ کچھ دیر ٹھہرا، جو زیادہ نہ تھی، پھر اس نے کہا میں نے اس بات کا احاطہ کیا ہے جس کا احاطہ تو نے نہیں کیا اور میں تیرے پاس سبا سے ایک یقینی خبر لایا ہوں۔
En
ابھی تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ ہُدہُد آ موجود ہوا اور کہنے لگا کہ مجھے ایک ایسی چیز معلوم ہوئی ہے جس کی آپ کو خبر نہیں اور میں آپ کے پاس (شہر) سبا سے ایک سچی خبر لے کر آیا ہوں
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿فَمَكَثَغَیْرَبَعِیْدٍ ﴾”ابھی زیادہ دیر نہیں گزری تھی“ کہ ہدہد پیش ہوا اور یہ چیز لشکر میں سلیمان علیہ السلام کی ہیبت اور اپنے معاملات پر ان کی گہری نظر پر دلالت کرتی ہے حتیٰ کی ہدہد بھی جسے ایک واضح عذر نے پیچھے چھوڑ دیا تھا، طویل عرصہ تک غیر حاضر نہ رہ سکا۔ ﴿ فَقَالَ ﴾ ہدہد نے سلیمان علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا: ﴿اَحَطْتُّبِمَالَمْتُحِطْبِهٖ ﴾”میں کچھ علم رکھتا ہوں، جس کا آپ (اپنے وسیع علم اور اس میں بلند درجے پر فائز ہونے کے باوجود) احاطہ نہیں کر سکے۔“﴿ وَجِئْتُكَمِنْسَبَاٍ﴾”اور میں آپ کے پاس سبا سے لایا ہوں۔“ یعنی یمن کے مشہور قبیلہ سے ﴿ بِنَبَاٍیَّقِیْنٍ ﴾”ایک یقینی خبر۔“ یعنی میں ایک یقینی خبر لے کر آیا ہوں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{فمكث غير بعيدٍ}: ثم جاء، وهذا يدلُّ على هيبة جنوده منه وشدَّة ائتمارهم لأمره، حتى إن هذا الهدهد الذي خَلَّفَه العذرُ الواضح لم يقدِرْ على التخلُّف زمناً كثيراً، {فقال} لسليمانَ: {أحطتُ بما لم تُحِطْ به}؛ أي: عندي من العلم علمٌ ما أحطتَ به على علمك الواسع وعلوِّ درجتك فيه، {وجئتُك من سبأ}: القبيلة المعروفة في اليمن {بنبأ يقين}؛ أي: خبر متيقن.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔