تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النمل (27) — آیت 21

لَاُعَذِّبَنَّہٗ عَذَابًا شَدِیۡدًا اَوۡ لَاَاذۡبَحَنَّہٗۤ اَوۡ لَیَاۡتِیَنِّیۡ بِسُلۡطٰنٍ مُّبِیۡنٍ ﴿۲۱﴾
یقینا میں اسے ضرور سزا دوں گا، بہت سخت سزا، یا میں ضرور ہی اسے ذبح کر دوں گا، یا وہ ضرور ہی میرے پاس کوئی واضح دلیل لے کر آئے گا۔ En
میں اسے سخت سزا دوں گا یا ذبح کر ڈالوں گا یا میرے سامنے (اپنی بےقصوری کی) دلیل صریح پیش کرے
En
یقیناً میں اسے سخت سزا دوں گا، یا اسے ذبح کر ڈالوں گا، یا میرے سامنے کوئی صریح دلیل بیان کرے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

تب سلیمان علیہ السلام ہدہد پر سخت ناراض ہوئے اور اسے دھمکی دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ لَاُعَذِّبَنَّهٗ۠ عَذَابً٘ا شَدِیْدًا میں اسے سخت سزا دوں گا۔ یعنی قتل کے سوا اسے ہر قسم کا سخت عذاب دوں گا۔ ﴿ اَوْ لَاَاذْبَحَنَّهٗۤ اَوْ لَیَاْتِیَنِّیْ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ یا اسے ذبح کر ڈالوں گا یا وہ میرے سامنے دلیل صریح پیش کرے۔ یعنی وہ اپنے پیچھے رہ جانے کے جواز پر واضح دلیل پیش کرے۔ یہ آپ کے کمال عدل وانصاف اور تقویٰ کی دلیل ہے کہ آپ نے ہدہد کو یوں ہی سخت عذاب دینے یا قتل کرنے کی قسم نہیں کھائی کیوں کہ یہ سزا صرف بہت بڑے جرم کی پاداش ہی میں دی جا سکتی ہے اور ہدہد کی غیر حاضری میں کسی واضح عذر کا احتمال بھی ہو سکتا ہے اس لیے آپ نے اپنے ورع اور فطانت کی بنا پر اس کو مستثنیٰ کیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فحينئذٍ تغيَّظَ عليه وتوعَّده فقال: {لأعذِّبَنَّه عذاباً شديداً}: دون القتل {أو لأذْبَحَنَّه أو ليأتِيَنِّي بسلطانٍ مبينٍ}؛ أي: حجة واضحة على تخلُّفه. وهذا من كمال ورعِهِ وإنصافِهِ؛ أنَّه لم يقسم على مجرَّد عقوبته بالعذاب أو القتل؛ لأنَّ ذلك لا يكون إلاَّ من ذنبٍ، وغيبته قد تحتمل أنها لعذرٍ واضح؛ فلذلك استثناه لورعه وفطنته.