تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النمل (27) — آیت 23

اِنِّیۡ وَجَدۡتُّ امۡرَاَۃً تَمۡلِکُہُمۡ وَ اُوۡتِیَتۡ مِنۡ کُلِّ شَیۡءٍ وَّ لَہَا عَرۡشٌ عَظِیۡمٌ ﴿۲۳﴾
بے شک میں نے ایک عورت کو پایا کہ ان پر حکومت کر رہی ہے اور اسے ہر چیز میں سے حصہ دیا گیا ہے اور اس کا ایک بڑا تخت ہے۔ En
میں نے ایک عورت دیکھی کہ ان لوگوں پر بادشاہت کرتی ہے اور ہر چیز اسے میسر ہے اور اس کا ایک بڑا تخت ہے
En
میں نے دیکھا کہ ان کی بادشاہت ایک عورت کر رہی ہے جسے ہر قسم کی چیز سے کچھ نہ کچھ دیا گیا ہے اور اس کا تخت بھی بڑی عظمت واﻻ ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر اس نے اس خبر کو واضح کرتے ہوئے عرض کیا: ﴿ اِنِّیْ وَجَدْتُّ امْرَاَةً تَمْلِكُ٘هُمْ میں نے ایک عورت دیکھی کہ ان لوگوں پر بادشاہت کرتی ہے۔ یعنی وہ عورت ہوتے ہوئے قبیلۂ سبا کی بادشاہ تھی۔ ﴿ وَاُوْتِیَتْ مِنْ كُ٘لِّ شَیْءٍ اور اسے ہر قسم کا سازوسامان عطا کیا گیا ہے جو بادشاہوں کو عطا ہوتا ہے، مثلاً:مال و دولت، اسلحہ، فوج، مضبوط دفاعی حصار اور قلعے، وغیرہ۔ ﴿ وَّلَهَا عَرْشٌ٘ عَظِیْمٌ اور اس کے پاس بہت بڑا تخت (بادشاہی) ہے جس پر وہ جلوہ افروز ہوتی ہے۔ وہ بہت ہی حیران کن تخت ہے۔ تخت شاہی کا بڑا ہونا عظمت مملکت، قوت سلطنت اور شوریٰ کے افراد کی کثرت پر دلالت کرتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم فسَّر هذا النبأ فقال: {إني وجدتُ امرأةً تملِكُهم}؛ أي: تملك قبيلة سبأ، وهي امرأة، {وأوتِيَتْ من كلِّ شيءٍ}: يؤتاه الملوك من الأموال والسلاح والجنود والحصون وقلاع ونحو ذلك، {ولها عرشٌ عظيمٌ}؛ أي: كرسي ملكها الذي تجلس عليه عرشٌ هائلٌ، وعِظَمُ العروش تدُلُّ على عظمة المملكة وقوة السلطان وكثرة رجال الشورى.