تو وہ اس کی بات سے ہنستا ہوا مسکرایا اور اس نے کہا اے میرے رب! مجھے توفیق دے کہ میں تیری نعمت کا شکر کروں، جو تونے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر کی ہے اور یہ کہ میں نیک عمل کروں، جسے تو پسند کرے اور اپنی رحمت سے مجھے اپنے نیک بندوں میں داخل فرما۔
En
تو وہ اس کی بات سن کر ہنس پڑے اور کہنے لگے کہ اے پروردگار! مجھے توفیق عطا فرما کہ جو احسان تونے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر کئے ہیں ان کا شکر کروں اور ایسے نیک کام کروں کہ تو ان سے خوش ہوجائے اور مجھے اپنی رحمت سے اپنے نیک بندوں میں داخل فرما
اس کی اس بات سے حضرت سلیمان مسکرا کر ہنس دیئے اور دعا کرنے لگے کہ اے پروردگار! تو مجھے توفیق دے کہ میں تیری ان نعمتوں کا شکر بجا ﻻؤں جو تو نے مجھ پر انعام کی ہیں اور میرے ماں باپ پر اور میں ایسے نیک اعمال کرتا رہوں جن سے تو خوش رہے مجھے اپنی رحمت سے نیک بندوں میں شامل کر لے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
حضرت سلیمان علیہ السلام نے چیونٹی کی بات سن لی اور آپ اس کو سمجھ بھی گئے۔ ﴿ فَتَبَسَّمَضَاحِكًامِّنْقَوْلِهَا ﴾”پس وہ (سلیمان علیہ السلام) چیونٹی کی بات سن کر ہنس پڑے۔“ چیونٹی کی اپنی ہم جنسوں کے بارے میں اور خود اپنے بارے میں خیرخواہی اور حسن تعبیر پر خوش ہو کر مسکرا پڑے یہ انبیائے کرام کا حال ہے جو ادب کامل اور اپنے مقام پر اظہار تعجب کو شامل ہے نیز یہ کہ ان کا ہنسنا تبسم کی حد تک ہوتا ہے۔ جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا زیادہ تر ہنسنا مسکراہٹ کی حد تک ہوتا تھا۔ کیونکہ قہقہہ لگا کر ہنسنا خفت عقل اور سوء ادب پر دلالت کرتا ہے۔ خوش ہونے والی بات پر خوش نہ ہونا اور عدم تبسم بدخلقی اور طبیعت کی سختی پر دلالت کرتا ہے اور انبیاء ورسل اس سے پاک ہوتے ہیں۔ سلیمان علیہ السلام نے اللہ تبارک وتعالیٰ کا، جس نے اسے یہ مقام عطا کیا، شکر ادا کرتے ہوئے کہا: ﴿ رَبِّاَوْزِعْنِیْۤ﴾ یعنی اے رب! مجھے الہام کر اور مجھے توفیق دے ﴿ اَنْاَشْكُرَنِعْمَتَكَالَّتِیْۤاَنْعَمْتَعَلَیَّوَعَلٰىوَالِدَیَّ ﴾”کہ جو احسان تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر کیے ہیں، ان کا شکر کروں۔“ کیونکہ والدین کو نعمت عطا ہونا اولاد کو نعمت عطا ہونا ہے۔ پس حضرت سلیمان علیہ السلام نے اپنے رب سے اس دینی اور دنیاوی نعمت پر، جو اس نے انھیں اور ان کے والدین کو عطا کی، شکر ادا کرنے کی توفیق کا سوال کیا: ﴿ وَاَنْاَعْمَلَصَالِحًاتَرْضٰىهُ ﴾”اور یہ کہ ایسے نیک کام کروں کہ تو ان سے خوش ہو جائے۔“ یعنی مجھے توفیق عطا کر کہ میں ایسے نیک کام کروں جو تیرے حکم کے موافق، خالص تیرے لیے، مفسدات اور نقائص سے پاک ہوں تاکہ تو ان سے راضی ہو۔
﴿وَاَدْخِلْنِیْبِرَحْمَتِكَ ﴾”اور مجھے اپنی رحمت سے داخل فرما۔“ یعنی جس رحمت کا جنت بھی حصہ ہے۔ ﴿ فِیْعِبَادِكَالصّٰؔلِحِیْنَ ﴾”اپنے جملہ نیک بندوں میں “ کیونکہ رحمت، صالحین کے لیے، ان کے درجات اور منازل کے مطابق رکھی گئی ہے۔ یہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے کی اس حالت کے نمونے کا ذکر ہے جو چیونٹی کی بات سن کر ہوئی تھی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فسمع سليمانُ عليه الصلاة والسلامُ قولَها وفَهِمَهُ، {فتبسَّمَ ضاحكاً من قولِها}: إعجاباً منه بفصاحتها ونُصحها وحسن تعبيرها، وهذا حال الأنبياء عليهم الصلاة والسلام؛ الأدبُ الكاملُ، والتعجُّب في موضعه، وأنْ لا يبلغَ بهم الضَّحِك إلاَّ إلى التبسُّم؛ كما كان الرسول - صلى الله عليه وسلم - جُلُّ ضَحِكِهِ التبسُّمُ؛ فإنَّ القهقهةَ تدلُّ على خفة العقل وسوء الأدب، وعدم التبسُّم والعجب مما يُتَعَجَّب منه يدلُّ على شراسةِ الخلق والجبروت، والرسل منزَّهون عن ذلك. وقال شاكراً لله الذي أوصله إلى هذه الحال: {ربِّ أوْزِعْني}؛ أي: ألهمني ووفقني {أنْ أشكُرَ نعمتَكَ التي أنعمتَ عليَّ وعلى والديَّ}: فإنَّ النعمةَ على الوالدين نعمةٌ على الولد، فسأل ربَّه التوفيق للقيام بشكر نعمتِهِ الدينيَّة والدنيويَّة عليه وعلى والديه، {وأنْ أعملَ صالحاً ترضاه}؛ أي: ووفِّقْني أن أعمل صالحاً ترضاه؛ لكونه موافقاً لأمرك مخلصاً فيه سالماً من المفسدات والمنقصات، {وأدخلني برحمتِكَ}: التي منها الجنة، {في}: جملةِ {عبادِكَ الصالحين}: فإنَّ الرحمةَ مجعولةٌ للصالحين على اختلاف درجاتهم ومنازلهم. فهذا نموذجٌ ذَكَره الله من حالة سليمان عند سماع خطابِ النملة وندائها.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔