یہاں تک کہ جب وہ چیونٹیوں کی وادی پر آئے تو ایک چیونٹی نے کہا اے چیونٹیو! اپنے گھروں میں داخل ہو جائو، کہیں سلیمان اوراس کے لشکر تمھیں کچل نہ دیں اور وہ شعور نہ رکھتے ہوں۔
En
یہاں تک کہ جب چیونٹیوں کے میدان میں پہنچے تو ایک چیونٹی نے کہا کہ چیونٹیوں اپنے اپنے بلوں میں داخل ہو جاؤ ایسا نہ ہو کہ سلیمان اور اس کے لشکر تم کو کچل ڈالیں اور ان کو خبر بھی نہ ہو
جب وه چینوٹیوں کے میدان میں پہنچے تو ایک چیونٹی نے کہا اے چیونٹیو! اپنے اپنے گھروں میں گھس جاؤ، ایسا نہ ہو کہ بیخبری میں سلیمان اور اس کا لشکر تمہیں روند ڈالے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
پس سلیمان علیہ السلام یہ عظیم لشکر لے کر اپنی کسی مہم پر روانہ ہوئے ﴿ حَتّٰۤىاِذَاۤاَتَوْاعَلٰىوَادِالنَّمْلِقَالَتْنَمْلَةٌ ﴾”حتی کہ جب وہ چیونٹیوں کی وادی میں پہنچے تو ایک چیونٹی نے کہا۔“ یعنی چیونٹی نے اپنے گروہ اور اپنے ابنائے جنس کو متنبہ کرتے ہوئے کہا: ﴿ یّٰۤاَیُّهَاالنَّمْلُادْخُلُوْامَسٰكِنَكُمْلَایَحْطِمَنَّكُمْسُلَ٘یْمٰنُوَجُنُوْدُهٗوَهُمْلَایَشْ٘عُرُوْنَ ﴾”اے چیونٹیو! اپنے اپنے بلوں میں داخل ہو جاؤ، ایسا نہ ہو کہ سلیمان علیہ السلام اور اس کے لشکر تم کو کچل ڈالیں اور ان کو خبر بھی نہ ہو۔“ اس چیونٹی نے خیرخواہی کی اور یہ بات چیونٹیوں کو سنائی۔ یہ بات یا تو اس نے خود سنائی اور ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ نے خرق عادت کے طورپر چیونٹیوں کو سماعت عطا کر دی ہو کیونکہ چیونٹیوں کو ایک چیونٹی کی آواز کے ذریعے سے آگاہ کرنا، جبکہ چیونٹیوں نے وادی کو بھر رکھا تھا، بہت ہی تعجب انگیز بات ہے … یا اس چیونٹی نے ساتھ والی چیونٹی سے کہا ہو گا اور یہ خبر ایک چیونٹی سے دوسری چیونٹی تک حتیٰ کہ تمام چیونٹیوں میں سرایت کر گئی ہو گی اور اس چیونٹی نے دوسری چیونٹیوں کو بچنے کے لیے کہا اور اس کا طریقہ یہ تھا کہ تمام چیونٹیاں اپنے اپنے بلوں میں گھس جائیں۔ یہ چیونٹی سلیمان علیہ السلام، ان کے احوال اور ان کی سلطنت کی عظمت کو اچھی طرح جانتی تھی اس لیے اس نے ان کی طرف سے معذرت کرتے ہوئے کہا، اگر انھوں نے چیونٹیوں کو کچل ڈالا تو یہ فعل قصداً اور شعوری طور پر نہیں ہو گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فسار بهذه الجنودِ الضخمةِ في بعض أسفاره، {حتى إذا أتَوْا على وادي النمل قالت نملةٌ}: منبهةٌ لرفقتها وبني جنسها: {يا أيُّها النملُ ادخُلوا مساكِنَكم لا يَحْطِمَنَّكُم سليمانُ وجنودُه وهم لا يشعرونَ}: فنصحت هذه النملة وأسمعتِ النمل: إما بنفسِها، ويكون الله قد أعطى النملَ أسماعاً خارقةً للعادة؛ لأنَّ التنبيه للنمل الذي قد ملأ الوادي بصوت نملةٍ واحدة من أعجب العجائب. وإما بأنَّها أخْبَرَتْ مَنْ حولَها من النمل ثم سرى الخبرُ من بعضهنَّ لبعضٍ حتى بَلَغَ الجميع وأمَرَتْهُنَّ بالحذر والطريق في ذلك، وهو دخول مساكنهنَّ، وعرفت حالة سليمان وجنوده وعظمةَ سلطانِهِ، واعتذرتْ عنهم أنَّهم إنْ حَطَموكم؛ فليس عن قصدٍ منهم ولا شعورٍ.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔