تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَحُشِرَلِسُلَ٘یْمٰنَجُنُوْدُهٗمِنَالْجِنِّوَالْاِنْ٘سِوَالطَّیْرِفَهُمْیُوْزَعُوْنَ ﴾”اور سلیمان علیہ السلام کے لیے جنوں، انسانوں اور پرندوں کے لشکر جمع کیے گئے اور وہ قسم وار کیے جاتے تھے۔“ یعنی ان کے سامنے ان کے بے شمار مختلف انواع کے خوف ناک لشکر جمع ہوئے یہ لشکر انسانوں، جنوں، شیاطین اور پرندوں میں سے تھے۔ ان کو نظم و ضبط میں رکھا جاتا اور ان کا انتظام کیا جاتا تھا۔ ان کے اول کو آخر کی طرف لوٹایا جاتا تھا وہ اپنے کوچ کرنے اور پڑاؤ ڈالنے میں نہایت نظم و ضبط سے کام لیتے تھے اور ہر ایک اس کے لیے پوری طرح مستعد اور تیار ہوتا تھا۔ یہ تمام لشکر سلیمان علیہ السلام کے حکم کی تعمیل کرتے تھے ان میں سے کوئی بھی، حکم عدولی کرنے اور سرکشی دکھانے کی قدرت نہیں رکھتا تھا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ هٰؔذَاعَطَآؤُنَافَامْنُ٘نْاَوْاَمْسِكْ ﴾ (صٓ:38؍39) ”یہ ہماری نوازش ہے، آپ جسے چاہیں نوازیں اور جس سے چاہیں روک لیں۔“ یعنی جس کو چاہیں بغیر حساب عطا کریں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وحُشِرَ لسليمانَ جنودُهُ من الجنِّ والإنس والطير فهم يوزَعونَ}: أي جُمِعَ له جنودُه الكثيرةُ الهائلة المتنوِّعة من بني آدم ومن الجنِّ والشياطين ومن الطيور. {فهُم يوزَعون}: يُدَبَّرون ويردُّ أولُهم على آخرهم وينظَّمون غاية التنظيم في سيرهم ونزولهم وحَلِّهم وتَرْحالهم، قد استعدَّ لذلك وأعدَّ له عدَّته، وكلُّ هذه الجنود مؤتمرةٌ بأمرِهِ لا تقدرُ على عصيانِهِ ولا تتمرَّد عليه؛ كما قال تعالى: {هذا عطاؤنا فامْنُنْ أو أمْسِكْ}؛ أي: أعط بغير حساب.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔