تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النمل (27) — آیت 16

وَ وَرِثَ سُلَیۡمٰنُ دَاوٗدَ وَ قَالَ یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ عُلِّمۡنَا مَنۡطِقَ الطَّیۡرِ وَ اُوۡتِیۡنَا مِنۡ کُلِّ شَیۡءٍ ؕ اِنَّ ہٰذَا لَہُوَ الۡفَضۡلُ الۡمُبِیۡنُ ﴿۱۶﴾
اور سلیمان دائود کا وارث بنا اور اس نے کہا اے لوگو!ہمیں پرندوں کی بولی سکھائی گئی اور ہمیں ہر چیز میں سے حصہ دیا گیا ہے۔ بے شک یہ یقینا یہی واضح فضل ہے۔ En
اور سلیمان اور داؤد کے قائم مقام ہوئے۔ اور کہنے لگے کہ لوگو! ہمیں (خدا کی طرف سے) جانوروں کی بولی سکھائی گئی ہے اور ہر چیز عنایت فرمائی گئی ہے۔ بےشک یہ (اُس کا) صریح فضل ہے
En
اور داؤد کے وارث سلیمان ہوئے اور کہنے لگے لوگو! ہمیں پرندوں کی بولی سکھائی گئی ہے اور ہم سب کچھ میں سے دیئے گئے ہیں۔ بیشک یہ بالکل کھلا ہوا فضل الٰہی ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پس جب اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد اور حضرت سلیمان علیہما السلام کی مشترک مدح کی پھر سلیمان علیہ السلام کا خصوصی ذکر کیا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک عظیم سلطنت عطا کی اور انھوں نے وہ کارنامے سر انجام دیے جو ان کے باپ داؤد علیہ السلام سرانجام نہ دے سکے۔ ﴿ وَوَرِثَ سُلَ٘یْمٰنُ دَاوٗدَ اور سلیمان، داود کے وارث بنے۔ یعنی وہ حضرت داؤد علیہ السلام کے علم اور ان کی نبوت کے وارث بنے انھوں نے اپنے علم کے ساتھ اپنے والد کے علم کو اکٹھا کر لیا شاید انھوں نے اپنے باپ کے علم کو اپنے باپ سے سیکھا اس کے ساتھ ساتھ ان کے باپ کی موجودگی میں بھی ان کے پاس علم تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ فَفَهَّمْنٰهَا سُلَ٘یْمٰنَ (الانبیاء:21؍79) پس صحیح فیصلہ ہم نے سلیمان کو سمجھا دیا۔ اللہ تعالیٰ کے احسان پر اس کا شکر ادا کرتے ہوئے اور تحدیث نعمت کے طور پر سلیمان علیہ السلام نے کہا: ﴿ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ عُلِّمْنَا مَنْطِقَ الطَّیْرِ لوگو! ہمیں جانوروں کی بولی سکھائی گئی ہے۔ سلیمان علیہ السلام پرندوں کی بولی اور ان کی بات کو سمجھتے تھے جیسا کہ آنجناب نے ہدہد سے بات چیت کی اور ہدہد نے ان کی باتوں کا جواب دیا اور جیسا کہ آنجناب نے چیونٹی کی بات کو سمجھ لیا تھا جو اس نے چیونٹیوں سے کی تھی … اس کا ذکر آئندہ سطور میں آئے گا۔ یہ فضیلت سلیمان علیہ السلام کے سوا کسی اور کو عطا نہیں ہوئی۔ ﴿ وَاُوْتِیْنَا مِنْ كُ٘لِّ شَیْءٍ اور ہمیں ہر چیز عطا کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں نعمتیں، اقتدار کے اسباب، سلطنت اور غلبہ عطا کیا جو انسانوں میں سے کسی کو عطا نہیں ہوئے اس لیے انھوں نے اپنے رب سے دعا کی: ﴿ وَهَبْ لِیْ مُلْ٘كًا لَّا یَنْۢبَغِیْ لِاَحَدٍ مِّنْۢ بَعْدِیْ (صٓ:38؍35) اور مجھے وہ اقتدار عطا کر جو میرے بعد کسی کے سزا وار نہ ہو۔ پس اللہ تعالیٰ نے جنوں کو ان کے سامنے مسخر کر دیا جو ان کے لیے ہر وہ کام کرتے تھے جووہ چاہتے تھے، جو دوسرے لوگ نہیں کر سکتے تھے، اللہ تعالیٰ نے ہوا کو ان کے لیے مسخر کر دیا وہ صبح کے وقت ایک مہینے کی راہ تک اور شام کے وقت ایک مہینے کی راہ تک چلتی تھی۔ ﴿اِنَّ هٰؔذَا بے شک یہ۔ یعنی یہ سب کچھ جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا کیا، ہمیں فضیلت عطا کی اور جس کے ساتھ ہمیں مختص کیا۔ ﴿ لَهُوَ الْفَضْلُ الْمُبِیْنُ البتہ وہ صریح فضل ہے۔ یہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا واضح فضل ہے۔ پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کا پوری طرح اعتراف کیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فلما مدحهما مشتركين؛ خصَّ سليمان بما خصَّه به لكون الله أعطاه ملكاً عظيماً وصار له من الماجريات ما لم يكن لأبيه صلى الله عليهما وسلم، فقال: {وورث سليمانُ داودَ}؛ أي: ورث علمه ونبوَّته، وانضمَّ علم أبيه إلى علمه، فلعلَّه تعلَّم من أبيه ما عنده من العلم مع ما كان عليه من العلم وقتَ أبيه؛ كما تقدَّم من قوله: {ففهَّمْناها سليمانَ}. {وقال}: شكراً لله وتبجُّحاً بإحسانه وتحدُّثاً بنعمتِهِ: {يا أيُّها الناس عُلِّمْنا منطقَ الطيرِ}: فكان عليه الصلاة والسلام يفقهُ ما تقولُ وتتكلمُ به؛ كما راجعَ الهدهدَ وراجَعَه، وكما فهم قول النملةِ للنمل كما يأتي، وهذا لم يكن لأحدٍ غير سليمان عليه السلام، {وأوتينا من كلِّ شيءٍ}؛ أي: أعطانا الله من النعم ومن أسباب الملك ومن السلطنة والقهر ما لم يؤتِ أحداً من الآدميين، ولهذا دعا ربَّه، فقال: {ربِّ هَبْ لي ملكاً لا ينبغي لأحدٍ من بعدي}: فسخَّر الله له الشياطينَ يَعْمَلونَ له كلَّ ما شاء من الأعمال التي يَعْجَزُ عنها غيرُهم، وسخَّر له الريح غُدُوُّها شهرٌ ورَواحها شهرٌ. {إنَّ هذا}: الذي أعطانا الله، وفضَّلنا، واختصَّنا به {لهو الفضلُ المبين}: الواضح الجليُّ، فاعترف أكمل اعترافٍ بنعمة الله تعالى.