تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الشعراء (26) — آیت 5

وَ مَا یَاۡتِیۡہِمۡ مِّنۡ ذِکۡرٍ مِّنَ الرَّحۡمٰنِ مُحۡدَثٍ اِلَّا کَانُوۡا عَنۡہُ مُعۡرِضِیۡنَ ﴿۵﴾
اور ان کے پاس رحمان کی طرف سے کوئی نصیحت نہیں آتی جو نئی ہو، مگر وہ اس سے منہ موڑنے والے ہوتے ہیں۔ En
اور ان کے پاس (خدائے) رحمٰن کی طرف سے کوئی نصیحت نہیں آتی مگر یہ اس سے منہ پھیر لیتے ہیں
En
اور ان کے پاس رحمٰن کی طرف سے جو بھی نئی نصیحت آئی یہ اس سے روگردانی کرنے والے بن گئے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَمَا یَ٘اْتِیْهِمْ مِّنْ ذِكْرٍ مِّنَ الرَّحْمٰنِ مُحْدَثٍ اور ان کے پاس رحمن کی طرف سے کوئی نصیحت نہیں آتی۔ وہ انھیں حکم دیتا ہے، انھیں روکتا ہے اور ان کو یاد دہانی کراتا ہے کہ کون سے امور انھیں فائدہ دیتے ہیں اور کون سے امور انھیں نقصان دیتے ہیں ﴿ اِلَّا كَانُوْا عَنْهُ مُعْرِضِیْنَ مگر یہ اس سے منہ پھیر لیتے ہیں۔ اپنے قلب وبدن کے ساتھ۔ یہ ان کا اس نئی نصیحت اور یاد دہانی سے اعراض ہے جس کا مؤثر ہونا عادت کے مطابق زیادہ بلیغ ہوتا ہے تو پھر کسی اور نصیحت کے بارے میں ان کا رویہ کیا ہو گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے اندر کوئی بھلائی نہیں اور وعظ و نصیحت انھیں کوئی فائدہ نہیں دیتے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وما يأتيهم من ذِكْرٍ من الرحمن مُحْدَثٍ}: يأمرُهُم وينهاهُم ويذكِّرهم ما ينفعُهم ويضرُّهم {إلاَّ كانوا عنه معرِضينَ}: بقلوبِهِم وأبدانِهِم. هذا إعراضُهم عن الذكر المحدَث الذي جرت العادةُ أنَّه يكون موقِعُهُ أبلغَ من غيرِهِ؛ فكيف بإعراضهم عن غيرِهِ؟! وهذا لأنَّهم لا خير فيهم، ولا تنجَعُ فيهم المواعظُ.