تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الشعراء (26) — آیت 6

فَقَدۡ کَذَّبُوۡا فَسَیَاۡتِیۡہِمۡ اَنۡۢبٰٓؤُا مَا کَانُوۡا بِہٖ یَسۡتَہۡزِءُوۡنَ ﴿۶﴾
پس بے شک وہ جھٹلا چکے، سو ان کے پاس جلد ہی اس چیز کی خبریں آجائیں گی جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے۔ En
سو یہ تو جھٹلا چکے اب ان کو اس چیز کی حقیقت معلوم ہوگی جس کی ہنسی اُڑاتے تھے
En
ان لوگوں نے جھٹلایا ہے اب ان کے پاس جلدی سے اس کی خبریں آجائیں گی جس کے ساتھ وه مسخرا پن کر رہے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

بنابریں فرمایا: ﴿فَقَدْ كَذَّبُوْا پس انھوں نے تکذیب کی۔ یعنی حق کی اور یہ تکذیب ان کی فطرت بن گئی جس میں تغیر وتبدل نہیں ہے۔ ﴿ فَسَیَاْتِیْهِمْ۠ اَنْۢبٰٓؤُا مَا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ اب عنقریب ان کے پاس وہ خبریں آجائیں گی جن کا وہ استہزا کیا کرتے تھے۔ یعنی عنقریب ان پر عذاب واقع ہو گا اور ان پر وہ عذاب نازل ہو گا جسے وہ جھٹلایا کرتے تھے کیونکہ وہ عذاب کے مستحق بن چکے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولهذا قال: {فقد كذَّبوا}؛ أي: بالحقِّ، وصار التكذيبُ لهم سجيَّةً لا تتغيَّرُ ولا تتبدَّلُ، {فسيأتيهم أنباءُ ما كانوا به يستهزِئونَ}؛ أي: سيقع بهم العذابُ ويحلُّ بهم ما كذَّبوا به؛ فإنَّهم قد حقَّتْ عليهم كلمةُ العذاب.