تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الشعراء (26) — آیت 4

اِنۡ نَّشَاۡ نُنَزِّلۡ عَلَیۡہِمۡ مِّنَ السَّمَآءِ اٰیَۃً فَظَلَّتۡ اَعۡنَاقُہُمۡ لَہَا خٰضِعِیۡنَ ﴿۴﴾
اگر ہم چاہیں تو ان پر آسمان سے کوئی نشانی اتار دیں، پھر اس کے سامنے ان کی گردنیں نیچی ہو جائیں۔ En
اگر ہم چاہیں تو ان پر آسمان سے نشانی اُتار دیں۔ پھر ان کی گردنیں اس کے آگے جھک جائیں
En
اگر ہم چاہتے تو ان پر آسمان سے کوئی ایسی نشانی اتارتے کہ جس کے سامنے ان کی گردنیں خم ہو جاتیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اس لیے فرمایا: ﴿ اِنْ نَّشَاْ نُنَزِّلْ عَلَیْهِمْ مِّنَ السَّمَآءِ اٰیَةً اگر ہم چاہیں تو ان پر آسمان سے نشانی اتار دیں۔ یعنی آیات معجزہ میں سے ﴿ فَظَلَّتْ اَعْنَاقُهُمْ پھر ہو جائیں ان کی گردنیں۔ یعنی جھٹلانے والوں کی گردنیں ﴿ لَهَا خٰضِعِیْنَ اس کے آگے جھکنے والیں۔ مگر اس کی کوئی ضرورت ہے نہ اس میں کوئی مصلحت کیونکہ اس وقت ایمان لانا فائدہ مند نہیں، ایمان لانا صرف اسی وقت فائدہ دے گا جب وہ ایمان بالغیب ہو۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ هَلْ یَنْظُ٘رُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ تَاْتِیَهُمُ الْمَلٰٓىِٕكَةُ اَوْ یَ٘اْتِیَ رَبُّكَ اَوْ یَ٘اْتِیَ بَعْضُ اٰیٰتِ رَبِّكَ١ؕ یَوْمَ یَ٘اْتِیْ بَعْضُ اٰیٰتِ رَبِّكَ لَا یَنْفَ٘عُ نَفْسًا اِیْمَانُهَا (الانعام:6؍158) کیا یہ لوگ صرف اس بات کے منتظر ہیں کہ ان کے پاس فرشتے آئیں یا خود آپ کا رب آئے یا آپ کے رب کی کچھ نشانیاں آ جائیں، جس روز آپ کے رب کی کچھ نشانیاں آ جائیں گی تو اس روز کسی جان کو اس کا ایمان لانا کوئی فائدہ نہ دے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولهذا قال: {إن نَشَأ نُنَزِّلْ عليهم من السماءِ آيةً}؛ أي: من آيات الاقتراح {فَظَلَّتْ أعناقُهم}؛ أي: أعناق المكذِّبين {لها خاضعينَ}: ولكن لا حاجة إلى ذلك ولا مصلحة فيه؛ فإنَّه إذْ ذاك الوقت يكون الإيمان غير نافع، وإنَّما الإيمانُ النافعُ الإيمانُ بالغيب؛ كما قال تعالى: {هل يَنظُرون إلاَّ أن تَأتِيَهُمُ الملائكةُ أو يأتيَ رَبُّكَ أو يأتِيَ بعضُ آياتِ ربِّكَ يومَ يأتي بعضُ آياتِ ربِّكَ لا يَنفَعُ نفساً إيمانُها ... } الآية.