تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا: ﴿لَعَلَّكَبَ٘اخِعٌنَّفْسَكَ ﴾”شائد کہ آپ اپنے آپ کو ہلاک کر لیں گے۔“ یعنی آپ اپنے آپ کو ہلاکت اور مشقت میں ڈال رہے ہیں ﴿اَلَّایَكُوْنُوْامُؤْمِنِیْنَ ﴾”اس وجہ سے کہ یہ لوگ ایمان کیوں نہیں لاتے؟“ یعنی ایسا نہ کیجیے اور ان پر حسرت سے اپنی جان کو ختم نہ کیجیے کیونکہ ہدایت تو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ آپ کی ذمہ داری تبلیغ تھی، سو آپ نے یہ ذمہ داری ادا کر دی اور اس قرآن مبین کے بعد کوئی ایسی نشانی باقی نہیں کہ جسے ہم نازل کریں تاکہ یہ اس پر ایمان لے آئیں۔جو کوئی ہدایت کا طلب گار ہے اس کے لیے یہ قرآن کافی و شافی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فلهذا قال تعالى لنبيه: {لَعَلَّكَ باخعٌ نفسَك}؛ أي: مهلكها وشاقٌّ عليها {ألاّ يكونوا مؤمنينَ}؛ أي: فلا تفعل ولا تُذْهِبْ نفسَكَ عليهم حسراتٍ؛ فإنَّ الهداية بيد الله، وقد أدَّيْت ما عليك من التبليغ، وليس فوقَ هذا القرآن المُبين آيةٌ حتى نُنْزِلَها ليؤمنوا بها؛ فإنَّه كافٍ شافٍ لمن يريدُ الهداية.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔