تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الشعراء (26) — آیت 215

وَ اخۡفِضۡ جَنَاحَکَ لِمَنِ اتَّبَعَکَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۲۱۵﴾ۚ
اور اپنا بازو اس کے لیے جھکا دے جو ایمان والوں میں سے تیرے پیچھے چلے۔ En
اور جو مومن تمہارے پیرو ہوگئے ہیں ان سے متواضع پیش آؤ
En
اس کے ساتھ فروتنی سے پیش آ، جو بھی ایمان ﻻنے واﻻ ہو کر تیری تابعداری کرے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَاخْ٘فِضْ جَنَاحَكَ لِمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اہل ایمان جو آپ کے متبعین ہیں ان کے ساتھ نرم برتاؤ کیجیے ان کے ساتھ نہایت نرمی سے بات کیجیے ان کے ساتھ محبت و مودت، حسن اخلاق اور احسان کامل سے پیش آئیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ارشاد کی تعمیل کی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے بارے میں فرمایا: ﴿ فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ لِنْتَ لَهُمْ وَلَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِیْظَ الْقَلْبِ لَانْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِكَ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَهُمْ وَشَاوِرْهُمْ فِی الْاَمْرِ (آل عمران:3؍159) اللہ تعالیٰ کی رحمت سے آپ ان لوگوں کے لیے بڑے نرم واقع ہوئے ہیں اگر آپ تندخو اور سخت دل ہوتے تو یہ آپ کے آس پاس سے چھٹ جاتے پس آپ ان کو معاف کر دیجیے، ان کے لیے مغفرت مانگیے اور اجتماعی امور میں ان سے مشاورت کر لیا کیجیے۔
رسول مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ اخلاق، کامل ترین اخلاق تھے جن کے ذریعے سے عظیم مصالح حاصل ہوتے ہیں اور بہت سے مضر امور دور ہوتے ہیں۔ جن کا ہر روز مشاہدہ ہوتا ہے … تب کیا اس شخص کے لائق ہے جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہے اور اس کی اتباع اور اقتدا کا دعوی کرتا ہے کہ وہ مسلمانوں پر بوجھ بنے، بداخلاق، سخت طبیعت، سخت دل، بدخو اور بدکلام ہو؟ اور اگر وہ ان میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور سوء ادب دیکھے تو ان سے ناراض ہو جائے اور ان کو چھوڑ دے تب وہ ان سے نرم برتاؤ کرے نہ اس کے ہاں ان کے لیے کوئی ادب اور کوئی توفیق ہو۔ اس طرز عمل کے نتیجے میں بہت سے مفاسد حاصل اور بہت سے مصالح معطل ہوتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ آپ اسے پائیں گے کہ وہ اس شخص کی تحقیر کرتا ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات کو اختیار کرتا ہے، وہ اس کے حسن اخلاق کو نفاق اور مداہنت کا نام دیتا ہے، اپنے آپ کو بہت اونچا سمجھتا ہے اور اپنے عمل پر خوش ہوتا ہے۔ یہ طرز عمل اس کی جہالت، شیطان کی تزیین اور اس کا فریب شمار ہو گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{واخْفِضْ جناحَكَ لِمَنِ اتَّبَعَكَ من المؤمنينَ}: بلين جانبك، ولطفِ خطابِك لهم وتودُّدك وتحبُّبك إليهم وحُسنِ خُلُقِك والإحسان التامِّ بهم، وقد فعل - صلى الله عليه وسلم - ذلك؛ كما قال تعالى: {فبما رحمةٍ من الله لِنتَ لهم ولو كنتَ فَظًّا غليظَ القلب لانْفَضُّوا من حولِكَ فاعفُ عنهم واستَغْفِرْ لهم وشاوِرْهم في الأمر}؛ فهذه أخلاقُه - صلى الله عليه وسلم - أكملُ الأخلاق التي يحصُلُ بها من المصالح العظيمة ودفع المضارِّ ما هو مشاهدٌ؛ فهل يَليقُ بمؤمن بالله ورسوله يدَّعي اتِّباعَه والاقتداء به أن يكون كَلًّا على المسلمين، شرسَ الأخلاقِ، شديدَ الشَّكيمةِ [عليهم]، غليظَ القلبِ، فظَّ القول فظيعَه، وإنْ رأى منهم معصيةً أو سوءَ أدبٍ؛ هَجَرَهُم ومَقَتَهم وأبْغَضَهم، لا لينَ عنده، ولا أدبَ لديه، ولا توفيقَ؛ قد حصل من هذه المعاملة من المفاسِدِ وتعطيل المصالح ما حَصَلَ، ومع ذلك تَجِدُهُ محتقراً لِمَنِ اتَّصفَ بصفات الرسول الكريم، وقد رماه بالنِّفاق والمداهنةِ، وذكر نفسَه ورفَعَها وأُعْجِبَ بعمله؟! فهل يعدُّ هذا إلاَّ من جهله وتزيين الشيطان وخدعه له؟!