تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا: ﴿ فَاِنْعَصَوْكَ ﴾ اگر یہ کسی معاملے میں آپ کی نافرمانی کریں تو آپ ان سے بیزار ہوں نہ ان سے معاملات کو ترک کریں ان کے ساتھ نرم برتاؤ کریں اور نرمی سے پیش آئیں، البتہ آپ ان کے برے عمل سے براء ت کا اظہار کریں، ان کو نصیحت کریں اور ان کے ساتھ خیرخواہی سے پیش آئیں۔ ان کو اس برے عمل سے روکنے اور اس سے توبہ کروانے کے لیے مقدور بھر کوشش کریں۔ یہ آیت کریمہ ان لوگوں کے وہم کو رد کرتی ہے جو کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد: ﴿وَاخْ٘فِضْجَنَاحَكَ﴾ اہل ایمان سے صادر ہونے والے ہر فعل پر، جب تک وہ مومن ہیں، رضا کا تقاضا کرتا ہے۔ واللہ اعلم۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ولهذا قال الله لرسوله: {فإنْ عَصَوْكَ}: في أمر من الأمور؛ فلا تتبرَّأْ منهم، ولا تتركْ معاملتهم بخفض الجناح ولين الجانب، بل تبرَّأْ من عملهم؛ فعِظْهُم عليه، وانصَحْهم، وابذُلْ قدرتَكَ في ردِّهم عنه وتوبَتِهِم منه. وهذا الدفع احتراز وَهْم من يتوهَّم أنَّ قوله: {واخْفِضْ جناحك للمؤمنين}: يقتضي الرضاء بجميع ما يصدُرُ منهم ما داموا مؤمنينَ، فدفع هذا بهذا. والله أعلم.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔