تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الشعراء (26) — آیت 214

وَ اَنۡذِرۡ عَشِیۡرَتَکَ الۡاَقۡرَبِیۡنَ ﴿۲۱۴﴾ۙ
اور اپنے سب سے قریب رشتہ داروں کو ڈرا۔ En
اور اپنے قریب کے رشتہ داروں کو ڈر سنا دو
En
اپنے قریبی رشتہ والوں کو ڈرا دے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ان امور کا حکم دیا جن سے آپ کے نفس کو کمال حاصل ہوتا ہے تو پھر آپ کو دوسروں کی تکمیل کے بارے میں حکم فرمایا، چنانچہ فرمایا: ﴿وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَكَ الْاَقْ٘رَبِیْنَ اور اپنے قریبی عزیزوں کو ڈرائیں۔ یعنی جو آپ کے سب سے زیادہ قریبی اور دینی اور دنیاوی احسان کے سب سے زیادہ مستحق ہیں۔ یہ چیز تمام لوگوں کو ڈرانے کے حکم کے منافی نہیں ہے۔ جیسے، جب انسان کو عمومی احسان کا حکم دیا جاتا ہے اور پھر اسے کہا جاتا ہے: (أحسن الیٰ قرابتک) اپنے قریبی رشتہ داروں کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔ تب یہ خاص حکم تاکید اور حق کے زیادہ ہونے پر دلالت کرتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حکم الٰہی کی تعمیل کی، چنانچہ آپ نے قریش کے تمام گھرانوں کو عمومی اور خصوصی دعوت دی ان کو وعظ و نصیحت کی۔ آپ نے اپنے رشتہ داروں کی خیر خواہی اور ہدایت کے لیے کوئی کسر نہ اٹھا رکھی۔ جسے ہدایت عطا ہونی تھی اس نے ہدایت حاصل کر لی، جس نے روگردانی کرنی تھی اس نے روگردانی کی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولمَّا أمره بما فيه كمالُ نفسه؛ أمَرَه بتكميل غيره، فقال: {وأنذِرْ عشيرتَكَ الأقربينَ}: الذين هم أقربُ الناس إليك، وأحقُّهم بإحسانك الدينيِّ والدنيويِّ، وهذا لا ينافي أمره بإنذار جميع الناس؛ كما إذا أُمِرَ الإنسان بعموم الإحسان، ثم قيل له: أحسن إلى قرابتِكَ؛ فيكون هذا الخصوص دالًّا على التأكيد وزيادة الحثِّ. فامتثلَ - صلى الله عليه وسلم - هذا الأمرَ الإلهيَّ، فدعا سائرَ بطون قريش، فعمَّم وخصَّص، وذكَّرهم ووعظهم، ولم يُبْقِ - صلى الله عليه وسلم - من مقدوره شيئاً من نصحهم وهدايتهم إلاَّ فعلَه، فاهتدى من اهتدى، وأعرض من أعرض.