تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
جب لوط علیہ السلام نے دیکھا کہ وہ اپنی بدکاری پر جمے ہوئے ہیں تو کہنے لگے: ﴿ قَالَاِنِّیْلِعَمَلِكُمْمِّنَالْقَالِیْ٘نَ﴾”میں تمھاری اس بدکرداری پر تم پر سخت ناراض ہوں “ میں تمھیں اس سے منع کرتا ہوں اور اس برے کام کے انجام سے ڈراتا ہوں۔ حضرت لوط علیہ السلام نے دعا کی: ﴿ رَبِّنَجِّنِیْوَاَهْ٘لِیْمِمَّایَعْمَلُوْنَ ﴾”اے میرے رب! مجھ کو اور میرے گھر والوں کو ان کے کاموں سے نجات دے۔“ یعنی ان کے فعل بد اور اس کے عذاب سے بچا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرما لی۔
﴿ فَنَجَّیْنٰهُوَاَهْلَهٗۤاَجْمَعِیْنَۙ ۰۰ اِلَّاعَجُوْزًافِیالْغٰبِرِیْنَ ﴾”پس ہم نے ان کو اور ان کے سب گھر والوں کو نجات دی مگر ایک بڑھیا کہ پیچھے رہ گئی۔“ یعنی یہ عورت ان لوگوں میں رہ گئی جن پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا اور یہ عورت لوط علیہ السلام کی بیوی تھی۔ ﴿ ثُمَّدَمَّرْنَاالْاٰخَرِیْنَ ۰۰ وَاَمْطَرْنَاعَلَیْهِمْمَّطَرًا ﴾”پھر ہم نے دوسروں کو ہلاک کر دیا اور ان پر بارش برسائی۔“ یعنی ہم نے ان پر کھنگر کے پتھر برسائے ﴿فَسَآءَمَطَرُالْمُنْذَرِیْنَ ﴾”پس جو بارش ان ڈرائے گئے لوگوں پر برسائی گئی، بہت بری تھی۔“ اللہ تعالیٰ نے ان کے آخری متنفس تک کو ہلاک کر دیا۔ ﴿ اِنَّفِیْذٰلِكَلَاٰیَةً١ؕوَمَاكَانَاَكْثَرُهُمْمُّؤْمِنِیْنَ ۰۰ وَاِنَّرَبَّكَلَهُوَالْ٘عَزِیْزُالرَّحِیْمُ ﴾”بے شک اس میں ایک نشانی ہے مگر اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں۔ بے شک آپ کا رب بڑا زبردست ہے اور نہایت رحم والا بھی۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فلما رأى استمرارَهم عليه؛ {قال إنِّي لِعَمَلِكُم من القالينَ}؛ أي: المبغضينَ [له] الناهينَ عنه المحذِّرين، قال: {ربِّ نَجِّني وأهلي ممَّا يعملونَ}: من فعلِهِ وعقوبتِهِ، فاستجابَ اللهُ له {فنجَّيْناه وأهلَه أجمعينَ. إلاَّ عَجوزاً في الغابِرينَ}؛ أي: الباقين في العذاب، وهي امرأتُهُ. {ثم دمَّرْنا الآخرينَ. وأمْطَرْنا عليهم مَطَراً}؛ أي حجارة من سِجِّيل، {فَسَاءَ مَطَرُ المُنْذَرينَ}: أهلكهم الله عن آخرِهِم. {إنَّ في ذلك لآيةً وما كان أكثرُهُم مؤمنينَ. وإنَّ ربَّك لَهو العزيزُ الرحيمُ}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔