ترجمہ و تفسیر — سورۃ الشعراء (26) — آیت 168

قَالَ اِنِّیۡ لِعَمَلِکُمۡ مِّنَ الۡقَالِیۡنَ ﴿۱۶۸﴾ؕ
اس نے کہا بے شک میں تمھارے کام سے سخت دشمنی رکھنے والوں سے ہوں۔ En
لوط نے کہا کہ میں تمہارے کام کا سخت دشمن ہوں
En
آپ نے فرمایا، میں تمہارے کام سے سخت ناخوش ہوں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 168) {قَالَ اِنِّيْ لِعَمَلِكُمْ مِّنَ الْقَالِيْنَ: الْقَالِيْنَ اَلْقَالِيْ} کی جمع ہے جو {قَلٰي يَقْلِيْ} سے اسم فاعل ہے، جس کا معنی شدید نفرت اور دشمنی بھی ہے اور گوشت بھوننا بھی۔ لوط علیہ السلام نے فرمایا کہ میں تمھیں منع کرنے سے کیسے باز آ سکتا ہوں، جب کہ میں تمھارے اس کام سے شدید دشمنی رکھنے والوں میں سے ہوں، اتنی شدید کہ اس سے میرا دل جلتا ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

168-1یعنی میں اسے پسند نہیں کرتا اور اس سے سخت بیزار ہوں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

168۔ اس نے کہا: میں تمہارے اس کام سے سخت بیزار ہوں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

جب لوط علیہ السلام نے دیکھا کہ وہ اپنی بدکاری پر جمے ہوئے ہیں تو کہنے لگے: ﴿ قَالَ اِنِّیْ لِعَمَلِكُمْ مِّنَ الْقَالِیْ٘نَ میں تمھاری اس بدکرداری پر تم پر سخت ناراض ہوں میں تمھیں اس سے منع کرتا ہوں اور اس برے کام کے انجام سے ڈراتا ہوں۔ حضرت لوط علیہ السلام نے دعا کی: ﴿ رَبِّ نَجِّنِیْ وَاَهْ٘لِیْ مِمَّا یَعْمَلُوْنَ اے میرے رب! مجھ کو اور میرے گھر والوں کو ان کے کاموں سے نجات دے۔ یعنی ان کے فعل بد اور اس کے عذاب سے بچا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرما لی۔
﴿ فَنَجَّیْنٰهُ وَاَهْلَهٗۤ اَجْمَعِیْنَۙ ۰۰ اِلَّا عَجُوْزًا فِی الْغٰبِرِیْنَ پس ہم نے ان کو اور ان کے سب گھر والوں کو نجات دی مگر ایک بڑھیا کہ پیچھے رہ گئی۔ یعنی یہ عورت ان لوگوں میں رہ گئی جن پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا اور یہ عورت لوط علیہ السلام کی بیوی تھی۔ ﴿ ثُمَّ دَمَّرْنَا الْاٰخَرِیْنَ ۰۰ وَاَمْطَرْنَا عَلَیْهِمْ مَّطَرًا پھر ہم نے دوسروں کو ہلاک کر دیا اور ان پر بارش برسائی۔ یعنی ہم نے ان پر کھنگر کے پتھر برسائے ﴿فَسَآءَ مَطَرُ الْمُنْذَرِیْنَ پس جو بارش ان ڈرائے گئے لوگوں پر برسائی گئی، بہت بری تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے آخری متنفس تک کو ہلاک کر دیا۔ ﴿ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَمَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ۰۰ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْ٘عَزِیْزُ الرَّحِیْمُ بے شک اس میں ایک نشانی ہے مگر اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں۔ بے شک آپ کا رب بڑا زبردست ہے اور نہایت رحم والا بھی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فلما رأى استمرارَهم عليه؛ {قال إنِّي لِعَمَلِكُم من القالينَ}؛ أي: المبغضينَ [له] الناهينَ عنه المحذِّرين، قال: {ربِّ نَجِّني وأهلي ممَّا يعملونَ}: من فعلِهِ وعقوبتِهِ، فاستجابَ اللهُ له {فنجَّيْناه وأهلَه أجمعينَ. إلاَّ عَجوزاً في الغابِرينَ}؛ أي: الباقين في العذاب، وهي امرأتُهُ. {ثم دمَّرْنا الآخرينَ. وأمْطَرْنا عليهم مَطَراً}؛ أي حجارة من سِجِّيل، {فَسَاءَ مَطَرُ المُنْذَرينَ}: أهلكهم الله عن آخرِهِم. {إنَّ في ذلك لآيةً وما كان أكثرُهُم مؤمنينَ. وإنَّ ربَّك لَهو العزيزُ الرحيمُ}.