(آیت 168) {قَالَاِنِّيْلِعَمَلِكُمْمِّنَالْقَالِيْنَ: ”الْقَالِيْنَ“”اَلْقَالِيْ“} کی جمع ہے جو {”قَلٰييَقْلِيْ“} سے اسم فاعل ہے، جس کا معنی شدید نفرت اور دشمنی بھی ہے اور گوشت بھوننا بھی۔ لوط علیہ السلام نے فرمایا کہ میں تمھیں منع کرنے سے کیسے باز آ سکتا ہوں، جب کہ میں تمھارے اس کام سے شدید دشمنی رکھنے والوں میں سے ہوں، اتنی شدید کہ اس سے میرا دل جلتا ہے۔