تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الفرقان (25) — آیت 66

اِنَّہَا سَآءَتۡ مُسۡتَقَرًّا وَّ مُقَامًا ﴿۶۶﴾
بے شک وہ بری ٹھہرنے کی جگہ اور اقامت کی جگہ ہے۔ En
اور دوزخ ٹھیرنے اور رہنے کی بہت بری جگہ ہے
En
بے شک وه ٹھہرنے اور رہنے کے لحاظ سے بدترین جگہ ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿اِنَّهَا سَآءَتْ مُسْتَقَرًّا وَّمُقَامًا بلاشبہ دوزخ ٹھہرنے اور رہنے کی بہت بری جگہ ہے۔ یہ ان کی طرف سے اپنے رب کے سامنے عاجزی اور شدت احتیاج کا اظہار ہے۔ نیز یہ کہ ان میں اتنی طاقت نہیں کہ اس عذاب کو برداشت کر سکیں … نیز یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کے احسانات کو یاد رکھیں کیونکہ سختی کو دور کرنا بھی اس کی شدت اور برائی کے مطابق ہوتا ہے اور سختی جس قدر زیادہ شدت سے واقع ہو گی، اس کے ہٹائے جانے سے خوشی بھی اسی قدر زیادہ ہو گی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{إنَّها ساءتْ مُستقرًّا ومُقاماً}: وهذا منهم على وجه التضرُّع لربِّهم، وبيانِ شدَّةِ حاجتهم إليه، وأنَّهم ليس في طاقتهم احتمالُ هذا العذاب، وليتذكَّروا مِنَّةَ الله عليهم؛ فإنَّ صرف الشدَّةِ بحسب شدتها وفظاعتها يعظُمُ وقعُها، ويشتدُّ الفرحُ بصرفها.