تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَالَّذِیْنَاِذَاۤاَنْفَقُوْا ﴾”اور وہ جب خرچ کرتے ہیں۔“ یعنی نفقات واجبہ و مستحبہ ﴿ لَمْیُسْرِفُوْا﴾”تو اسراف نہیں کرتے۔“ یعنی وہ حد اعتدال سے آگے بڑھ کر تبذیر اور حقوق واجبہ سے بے اعتنائی کی حدود میں داخل نہیں ہوتے ﴿ لَمْیُسْرِفُوْاوَلَمْیَقْتُرُوْا﴾ اور نہ نفقات میں تنگی کر کے بخل اور کنجوسی کا مظاہرہ کرتے ہیں ﴿وَکَانَ﴾”اور ہوتا ہے“ یعنی ان کا خرچ کرنا۔ ﴿ بَیْنَذٰلِكَ ﴾ اسراف اور بخل کے بین بین ﴿ قَوَامًا ﴾”اعتدال کی راہ پر۔“ وہ ان مقامات پر خرچ کرتے ہیں جہاں خرچ کرنا واجب ہے، مثلاً: زکاۃ، کفارہ اور نفقات واجبہ وغیرہ۔ نیز ان مقامات پر خرچ کرتے ہیں جہاں خرچ کرنا مناسب ہو اور اس سے نقصان نہ پہنچتا ہو۔ یہ ان کے عدل و انصاف اور اعتدال کی دلیل ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{والذين إذا أنفَقوا}: النفقاتِ الواجبةَ والمستحبةَ {لم يُسْرِفوا}: بأن يَزيدوا على الحدِّ فيدخُلوا في قسم التبذير، {ولم يَقْتُروا}: فيدخلوا في باب البُخْل والشُّحِّ، وإهمال الحقوق الواجبة، {وكان}: إنفاقُهم {بينَ ذلك}: بين الإسراف والتقتير {قَواماً}: يبذُلون في الواجبات من الزَّكَواتِ والكفاراتِ والنفقاتِ الواجبةِ وفيما ينبغي على الوجه الذي يَنْبَغي من غير ضررٍ ولا ضِرارٍ، وهذا من عدلهم واقتصادهم.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔