تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الفرقان (25) — آیت 67

وَ الَّذِیۡنَ اِذَاۤ اَنۡفَقُوۡا لَمۡ یُسۡرِفُوۡا وَ لَمۡ یَقۡتُرُوۡا وَ کَانَ بَیۡنَ ذٰلِکَ قَوَامًا ﴿۶۷﴾
اور وہ کہ جب خرچ کرتے ہیں تو نہ فضول خرچی کرتے ہیں اور نہ خرچ میں تنگی کرتے ہیں اور (ان کا خرچ) اس کے درمیان معتدل ہوتا ہے۔ En
اور وہ جب خرچ کرتے ہیں تو نہ بےجا اُڑاتے ہیں اور نہ تنگی کو کام میں لاتے ہیں بلکہ اعتدال کے ساتھ۔ نہ ضرورت سے زیادہ نہ کم
En
اور جو خرچ کرتے وقت بھی نہ تو اسراف کرتے ہیں نہ بخیلی، بلکہ ان دونوں کے درمیان معتدل طریقے پر خرچ کرتے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَالَّذِیْنَ اِذَاۤ اَنْفَقُوْا اور وہ جب خرچ کرتے ہیں۔ یعنی نفقات واجبہ و مستحبہ ﴿ لَمْ یُسْرِفُوْا تو اسراف نہیں کرتے۔ یعنی وہ حد اعتدال سے آگے بڑھ کر تبذیر اور حقوق واجبہ سے بے اعتنائی کی حدود میں داخل نہیں ہوتے ﴿ لَمْ یُسْرِفُوْا وَلَمْ یَقْتُرُوْا اور نہ نفقات میں تنگی کر کے بخل اور کنجوسی کا مظاہرہ کرتے ہیں ﴿وَکَانَ اور ہوتا ہے یعنی ان کا خرچ کرنا۔ ﴿ بَیْنَ ذٰلِكَ اسراف اور بخل کے بین بین ﴿ قَوَامًا اعتدال کی راہ پر۔ وہ ان مقامات پر خرچ کرتے ہیں جہاں خرچ کرنا واجب ہے، مثلاً: زکاۃ، کفارہ اور نفقات واجبہ وغیرہ۔ نیز ان مقامات پر خرچ کرتے ہیں جہاں خرچ کرنا مناسب ہو اور اس سے نقصان نہ پہنچتا ہو۔ یہ ان کے عدل و انصاف اور اعتدال کی دلیل ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{والذين إذا أنفَقوا}: النفقاتِ الواجبةَ والمستحبةَ {لم يُسْرِفوا}: بأن يَزيدوا على الحدِّ فيدخُلوا في قسم التبذير، {ولم يَقْتُروا}: فيدخلوا في باب البُخْل والشُّحِّ، وإهمال الحقوق الواجبة، {وكان}: إنفاقُهم {بينَ ذلك}: بين الإسراف والتقتير {قَواماً}: يبذُلون في الواجبات من الزَّكَواتِ والكفاراتِ والنفقاتِ الواجبةِ وفيما ينبغي على الوجه الذي يَنْبَغي من غير ضررٍ ولا ضِرارٍ، وهذا من عدلهم واقتصادهم.