تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿وَالَّذِیْنَیَقُوْلُوْنَرَبَّنَااصْرِفْعَنَّاعَذَابَجَهَنَّمَ﴾”اور وہ جو دعا مانگتے ہیں کہ اے ہمارے رب! دوزخ کے عذاب کو ہم سے دور رکھ۔“ یعنی اسباب عصمت کے ذریعے سے اور ہمارے ان گناہوں کو بخش کر جو موجب عذاب ہیں، ہم سے جہنم کے عذاب کو دور فرما۔ ﴿ اِنَّعَذَابَهَاكَانَغَ٘رَامًا ﴾”بے شک اس کا عذاب بڑی تکلیف کی چیز ہے۔“ یعنی جہنم کا عذاب جہنمیوں سے چپک جائے گا۔ جیسے قرض خواہ مقروض سے چپک جاتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{والذين يقولونَ ربَّنا اصرِفْ عنَّا عذابَ جَهَنَّمَ}؛ أي: ادفعه عنا بالعصمةِ من أسبابِهِ ومغفرةِ ما وَقَعَ منَّا مما هو مقتضٍ للعذاب، {إنَّ عَذابها كانَ غراماً}؛ أي: ملازماً لأهلها بمنزلة ملازمةِ الغريم لغريمه.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔