تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الفرقان (25) — آیت 64

وَ الَّذِیۡنَ یَبِیۡتُوۡنَ لِرَبِّہِمۡ سُجَّدًا وَّ قِیَامًا ﴿۶۴﴾
اور وہ جو اپنے رب کے لیے سجدہ کرتے ہوئے اور قیام کرتے ہوئے رات گزارتے ہیں۔ En
اور جو وہ اپنے پروردگار کے آگے سجدے کرکے اور (عجز وادب سے) کھڑے رہ کر راتیں بسر کرتے ہیں
En
اور جو اپنے رب کے سامنے سجدے اور قیام کرتے ہوئے راتیں گزار دیتے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَالَّذِیْنَ یَبِیْتُوْنَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَّقِیَامًا اور وہ جو اپنے رب کے حضور سجدہ کر کے اور قیام کر کے راتیں بسر کرتے ہیں۔ یعنی راتوں کے وقت بہت کثرت سے نماز پڑھتے ہیں، اپنے رب کے سامنے اخلاص اور تذلل کا اظہار کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ تَتَجَافٰى جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِـعِ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَّطَمَعًا١ٞ وَّمِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ۰۰فَلَا تَعْلَمُ نَ٘فْ٘سٌ مَّاۤ اُخْ٘فِیَ لَهُمْ مِّنْ قُ٘رَّةِ اَعْیُنٍ١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ (السجدہ:32؍16، 17) ان کے پہلو بستروں سے الگ رہتے ہیں، وہ اپنے رب کو خوف اور امید کے ساتھ پکارتے ہیں اور جو کچھ رزق ہم نے انھیں عطا کیا ہے، اس میں سے اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں۔ کسی متنفس کو خبر نہیں کہ کیا کچھ آنکھوں کی ٹھنڈک کا سامان ان کے نیک اعمال کے بدلے میں ان کے لیے چھپا رکھا گیا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{والذين يَبيتونَ لربِّهم سُجَّداً وقياماً}؛ أي: يكثِرون من صلاةِ الليل مخلِصين فيها لربِّهم متذلِّلين له؛ كما قال تعالى: {تتجافى جُنوبُهم عن المضاجِع يَدْعونَ رَبَّهم خَوْفاً وطَمَعاً ومما رَزَقْناهم يُنفِقون. فلا تَعْلم نفسٌ ما أُخْفِي لهم مِن قُرَّةِ أعْيُنٍ جزاءً بما كانوا يَعْمَلونَ}.