تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَالَّذِیْنَیَبِیْتُوْنَلِرَبِّهِمْسُجَّدًاوَّقِیَامًا ﴾”اور وہ جو اپنے رب کے حضور سجدہ کر کے اور قیام کر کے راتیں بسر کرتے ہیں۔“ یعنی راتوں کے وقت بہت کثرت سے نماز پڑھتے ہیں، اپنے رب کے سامنے اخلاص اور تذلل کا اظہار کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ تَتَجَافٰىجُنُوْبُهُمْعَنِالْمَضَاجِـعِیَدْعُوْنَرَبَّهُمْخَوْفًاوَّطَمَعًا١ٞوَّمِمَّارَزَقْنٰهُمْیُنْفِقُوْنَ۰۰فَلَاتَعْلَمُنَ٘فْ٘سٌمَّاۤاُخْ٘فِیَلَهُمْمِّنْقُ٘رَّةِاَعْیُنٍ١ۚجَزَآءًۢبِمَاكَانُوْایَعْمَلُوْنَ ﴾ (السجدہ:32؍16، 17) ”ان کے پہلو بستروں سے الگ رہتے ہیں، وہ اپنے رب کو خوف اور امید کے ساتھ پکارتے ہیں اور جو کچھ رزق ہم نے انھیں عطا کیا ہے، اس میں سے اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں۔ کسی متنفس کو خبر نہیں کہ کیا کچھ آنکھوں کی ٹھنڈک کا سامان ان کے نیک اعمال کے بدلے میں ان کے لیے چھپا رکھا گیا ہے۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{والذين يَبيتونَ لربِّهم سُجَّداً وقياماً}؛ أي: يكثِرون من صلاةِ الليل مخلِصين فيها لربِّهم متذلِّلين له؛ كما قال تعالى: {تتجافى جُنوبُهم عن المضاجِع يَدْعونَ رَبَّهم خَوْفاً وطَمَعاً ومما رَزَقْناهم يُنفِقون. فلا تَعْلم نفسٌ ما أُخْفِي لهم مِن قُرَّةِ أعْيُنٍ جزاءً بما كانوا يَعْمَلونَ}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔