تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الفرقان (25) — آیت 57

قُلۡ مَاۤ اَسۡـَٔلُکُمۡ عَلَیۡہِ مِنۡ اَجۡرٍ اِلَّا مَنۡ شَآءَ اَنۡ یَّتَّخِذَ اِلٰی رَبِّہٖ سَبِیۡلًا ﴿۵۷﴾
کہہ دے میں تم سے اس پر کسی مزدوری کا سوال نہیں کرتا مگر جو چاہے کہ اپنے رب کی طرف کوئی راستہ اختیار کرے۔ En
کہہ دو کہ میں تم سے اس (کام) کی اجرت نہیں مانگتا، ہاں جو شخص چاہے اپنے پروردگار کی طرف جانے کا رستہ اختیار کرے
En
کہہ دیجئے کہ میں قرآن کے پہنچانے پر تم سے کوئی بدلہ نہیں چاہتا مگر جو شخص اپنے رب کی طرف راه پکڑنا چاہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اے محمد! صلی اللہ علیہ وسلم آپ قرآن اور ہدایت پہنچانے پر ان سے کسی اجر کا مطالبہ نہیں کرتے کہ یہ چیز ان کو آپ کی اتباع کرنے سے روکتی ہو اور انھیں اس مالی بوجھ کی تکلیف اٹھانی پڑتی ہو۔ ﴿ اِلَّا مَنْ شَآءَ اَنْ یَّؔتَّؔخِذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِیْلًا مگر جو چاہے یہ کہ وہ اپنے رب کی طرف کوئی راستہ پکڑے۔ یعنی سوائے اس شخص کے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے راستے میں اس کی رضا کی خاطر کچھ خرچ کرنا چاہتا ہے تو اس بارے میں بھی میں تمھیں ترغیب دیتا ہوں لیکن تمھیں اس پر مجبور نہیں کرتا اور تمھارے ذمے میرا کوئی اجر نہیں، یہ تو تمھاری راجح مصلحت اور تمھارے رب کے پاس پہنچانے والے راستے پر تمھارا گامزن ہونا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وإنَّك يا محمدُ لا تسألُهم على إبلاغِهِم القرآنَ والهدى أجراً حتى يَمْنَعَهم ذلك من اتِّباعك ويتكلَّفون من الغرامة، {إلاَّ مَن شاء أن يَتَّخِذَ إلى رَبِّه سبيلاً}؛ أي: إلاَّ مَن شاء أن يُنْفِقَ نفقةً في مرضاة ربِّه وسبيله؛ فهذا؛ وإن رغبتَّكم فيه؛ فلستُ أجْبِرُكم عليه، وليس أيضاً أجراً لي عليكم، وإنَّما هو راجعٌ لمصلحتِكم وسلوكِكم للسبيل الموصلة إلى ربكم.