تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اے محمد! صلی اللہ علیہ وسلم آپ قرآن اور ہدایت پہنچانے پر ان سے کسی اجر کا مطالبہ نہیں کرتے کہ یہ چیز ان کو آپ کی اتباع کرنے سے روکتی ہو اور انھیں اس مالی بوجھ کی تکلیف اٹھانی پڑتی ہو۔ ﴿ اِلَّامَنْشَآءَاَنْیَّؔتَّؔخِذَاِلٰىرَبِّهٖسَبِیْلًا ﴾”مگر جو چاہے یہ کہ وہ اپنے رب کی طرف کوئی راستہ پکڑے۔“ یعنی سوائے اس شخص کے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے راستے میں اس کی رضا کی خاطر کچھ خرچ کرنا چاہتا ہے تو اس بارے میں بھی میں تمھیں ترغیب دیتا ہوں لیکن تمھیں اس پر مجبور نہیں کرتا اور تمھارے ذمے میرا کوئی اجر نہیں، یہ تو تمھاری راجح مصلحت اور تمھارے رب کے پاس پہنچانے والے راستے پر تمھارا گامزن ہونا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وإنَّك يا محمدُ لا تسألُهم على إبلاغِهِم القرآنَ والهدى أجراً حتى يَمْنَعَهم ذلك من اتِّباعك ويتكلَّفون من الغرامة، {إلاَّ مَن شاء أن يَتَّخِذَ إلى رَبِّه سبيلاً}؛ أي: إلاَّ مَن شاء أن يُنْفِقَ نفقةً في مرضاة ربِّه وسبيله؛ فهذا؛ وإن رغبتَّكم فيه؛ فلستُ أجْبِرُكم عليه، وليس أيضاً أجراً لي عليكم، وإنَّما هو راجعٌ لمصلحتِكم وسلوكِكم للسبيل الموصلة إلى ربكم.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔