اس ہمیشہ زنده رہنے والے اللہ تعالیٰ پر توکل کریں جسے کبھی موت نہیں اور اس کی تعریف کے ساتھ پاکیزگی بیان کرتے رہیں، وه اپنے بندوں کے گناہوں سے کافی خبردار ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے رب پر بھروسہ کرنے اور اسی سے مدد مانگنے کا حکم دیا، فرمایا:﴿ وَتَوَكَّلْعَلَىالْ٘حَیِّ ﴾”اور اس زندہ پر بھروسہ کیجیے۔“ یعنی اس ہستی پر بھروسہ کیجیے جس کے لیے کامل اور مطلق زندگی ہے ﴿ الَّذِیْلَایَمُوْتُوَسَبِّحْبِحَمْدِهٖ﴾”جو کبھی نہیں مرے گا اور اس کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتے رہیے۔“ یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت کیجیے اور اپنی ذات اور مخلوق سے متعلق عام امور کے بارے میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کیجیے۔ ﴿ وَكَ٘فٰىبِهٖبِذُنُوْبِعِبَادِهٖخَبِیْرً﴾”اور وہ اپنے بندوں کے گناہوں سے خبر رکھنے کے لیے کافی ہے۔“ یعنی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے گناہوں سے خبردار ہے وہ انھیں ان گناہوں کی سزا دے گا۔ ان کی ہدایت کی ذمہ داری آپ پر ہے نہ ان کے اعمال کی حفاظت آپ کا فرض ہے۔ یہ تمام امور صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم أمره أن يتوكَّلَ عليه ويستعينَ به، فقال: {وتوكَّلْ على الحيِّ}: الذي له الحياة الكاملة المطلقة {الذي لا يموتُ وسَبِّحْ بحمدِهِ}؛ أي: اعبُدْه وتوكَّلْ عليه في الأمور المتعلِّقة بك والمتعلِّقة بالخلق، {وكفى به بذنوبِ عبادِهِ خبيراً}: يَعْلَمها ويجازي عليها؛ فأنتَ ليس عليك من هداهم شيءٌ، وليس عليك حفظُ أعمالهم، وإنَّما ذلك كلُّه بيد الله.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔