تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الفرقان (25) — آیت 56

وَ مَاۤ اَرۡسَلۡنٰکَ اِلَّا مُبَشِّرًا وَّ نَذِیۡرًا ﴿۵۶﴾
اور ہم نے تجھے نہیں بھیجا مگر خوش خبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر ۔ En
اور ہم نے (اے محمدﷺ) تم کو صرف خوشی اور عذاب کی خبر سنانے کو بھیجا ہے
En
ہم نے تو آپ کو خوشخبری اور ڈر سنانے واﻻ (نبی) بنا کر بھیجا ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے اپنے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو لوگوں پر داروغہ بنا کر بھیجا ہے نہ انھیں فرشتہ بنایا ہے اور نہ ان کے پاس چیزوں کے خزانے ہیں اس نے تو آپ کو صرف ﴿ مُبَشِّ٘رًا خوشخبری سنانے والا بنا کر بھیجا ہے آپ اس شخص کو دنیاوی اور اخروی ثواب کی خوشخبری سناتے ہیں جواللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتا ہے ﴿ وَّنَذِیْرًا اور ڈرانے والا۔ جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتا ہے اس کو دنیاوی اور اخروی سزا سے ڈراتے ہیں اور یہ اوامر و نواہی میں سے ان امور کی تبیین کو مستلزم ہے جن کی بشارت دی گئی ہے اور جن سے انذار حاصل ہوتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يخبر تعالى أنَّه ما أرسل رسولَه محمداً - صلى الله عليه وسلم - مسيطراً على الخلق، ولا جعله مَلَكاً، ولا عندَه خزائن الأشياء، وإنما أرسله {مبشراً}: يبشِّر من أطاع الله بالثواب العاجل والآجل. {ونذيراً}: ينذر من عصى الله بالعقاب العاجل والآجل، وذلك مستلزمٌ لتبيينِ ما بِهِ البِشارةُ، وما تحصُلُ به النِّذارةُ من الأوامر والنواهي.