تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الفرقان (25) — آیت 53

وَ ہُوَ الَّذِیۡ مَرَجَ الۡبَحۡرَیۡنِ ہٰذَا عَذۡبٌ فُرَاتٌ وَّ ہٰذَا مِلۡحٌ اُجَاجٌ ۚ وَ جَعَلَ بَیۡنَہُمَا بَرۡزَخًا وَّ حِجۡرًا مَّحۡجُوۡرًا ﴿۵۳﴾
اور وہی ہے جس نے دو سمندروں کو ملا دیا، یہ میٹھا ہے ، پیاس بجھانے والا اور یہ نمکین ہے کڑوا اور اس نے ان دونوں کے درمیان ایک پردہ اور مضبوط آڑ بنا دی۔ En
اور وہی تو ہے جس نے دو دریاؤں کو ملا دیا ایک کا پانی شیریں ہے پیاس بجھانے والا اور دوسرے کا کھاری چھاتی جلانے والا۔ اور دونوں کے درمیان ایک آڑ اور مضبوط اوٹ بنادی
En
اور وہی ہے جس نے دو سمندر آپس میں ملا رکھے ہیں، یہ ہے میٹھا اور مزیدار اور یہ ہے کھاری کڑوا، اور ان دونوں کے درمیان ایک حجاب اور مضبوط اوٹ کردی En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یعنی وہ اکیلا اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے دو سمندروں کو ملا رکھا ہے، ایک لذیذ اور شیریں پانی اور یہ روئے زمین پر بہنے والے دریا ہیں، دوسرا تلخ اور شور پانی۔ دونوں کی منفعت بندوں کے مصالح کے لیے ہے۔ ﴿وَجَعَلَ بَیْنَهُمَا بَرْزَخًا اور اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کے درمیان ایک پردہ حائل کر رکھا ہے جو دونوں کو ایک دوسرے کے ساتھ ملنے سے روکتا ہے تاکہ منفعت مقصود ضائع نہ ہو۔ ﴿ وَّحِجْرًا مَّحْجُوْرًا اور دونوں کے درمیان ایک مضبوط رکاوٹ حائل ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: {وهو}: وحدَه {الذي مَرَج البحرين}: يلتقيانِ؛ البحر العذبُ، وهي الأنهار السارحة على وجه الأرض، والبحر الملحُ، وجعل منفعةَ كلِّ واحدٍ منهما مصلحةً للعباد. {وجعل بينهما برزخاً}؛ أي: حاجزاً يحجُزُ من اختلاط أحدِهِما بالآخر، فتذهب المنفعةُ المقصودةُ منها {وحجراً محجوراً}؛ أي: حاجزاً حصيناً.