تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الفرقان (25) — آیت 54

وَ ہُوَ الَّذِیۡ خَلَقَ مِنَ الۡمَآءِ بَشَرًا فَجَعَلَہٗ نَسَبًا وَّ صِہۡرًا ؕ وَ کَانَ رَبُّکَ قَدِیۡرًا ﴿۵۴﴾
اور وہی ہے جس نے پانی سے ایک بشر کو پیدا کیا، پھر اسے خاندان اور سسرال بنا دیا اور تیرا رب ہمیشہ سے بے حد قدرت والا ہے۔ En
اور وہی تو ہے جس نے پانی سے آدمی پیدا کیا۔ پھر اس کو صاحب نسب اور صاحب قرابت دامادی بنایا۔ اور تمہارا پروردگار (ہر طرح کی) قدرت رکھتا ہے
En
وه ہے جس نے پانی سے انسان کو پیدا کیا، پھر اسے نسب واﻻ اور سسرالی رشتوں واﻻ کردیا۔ بلاشبہ آپ کا پروردگار (ہر چیز پر) قادر ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

وہ اکیلا اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے انسان کو ایک حقیر پانی سے پیدا کیا پھر اس میں سے بے شمار اولاد پھیلائی پھر اس نے نسب اور سسرال کے دو الگ الگ اور اکٹھے سلسلے چلائے ان تمام کا مادہ یہی حقیر پانی ہے اور یہ چیز اس کے اقتدار پر دلالت کرتی ہے۔ ﴿وَكَانَ رَبُّكَ قَدِیْرًا اور آپ کا رب بہت قدرت والا ہے۔ اور اللہ کا قادر ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ اس کی عبادت حق ہے اور اس کے سوا کسی اور کی عبادت باطل ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: وهو الله وحدَه لا شريكَ له الذي خلق الآدميَّ من ماءٍ مَهينٍ، ثم نشر منه ذُرِّيَّةً كثيرةً، وجعلهم أنساباً وأصهاراً، متفرِّقين ومجتمعين، والمادةُ كلُّها من ذلك الماء المَهين؛ فهذا يدلُّ على كمال اقتداره؛ لقوله: {وكان ربُّك قديراً}، ويدلُّ على أنَّ عبادته هي الحقُّ وعبادة غيره باطلة؛ لقوله: