تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الفرقان (25) — آیت 52

فَلَا تُطِعِ الۡکٰفِرِیۡنَ وَ جَاہِدۡہُمۡ بِہٖ جِہَادًا کَبِیۡرًا ﴿۵۲﴾
پس تو کافروں کا کہنا مت مان اور اس کے ساتھ ان سے جہاد کر، بہت بڑا جہاد۔ En
تو تم کافروں کا کہا نہ مانو اور ان سے اس قرآن کے حکم کے مطابق بڑے شدومد سے لڑو
En
پس آپ کافروں کا کہنا نہ مانیں اور قرآن کے ذریعے ان سے پوری طاقت سے بڑا جہاد کریں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اس لیے ﴿فَلَا تُ٘طِعِ الْ٘كٰفِرِیْنَ پس نہ بات مانیں آپ کافروں کی۔ یعنی کفار کی بات مان کر اس چیز کو ترک نہ کیجیے جس چیز کے ساتھ آپ کو بھیجا گیا ہے بلکہ اس کی تبلیغ کے لیے پوری کوشش کیجیے۔ ﴿ وَجَاهِدْهُمْ بِهٖ اور ان کے ساتھ جہاد کیجیے ﴿ جِهَادًا كَبِیْرًا جہاد بہت بڑا۔ یعنی نصرت حق اور باطل کے قلع قمع کرنے میں کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھیے۔ اگر آپ دیکھتے ہیں کہ وہ تکذیب اور جسارت پر جمے ہوئے ہیں تو آپ اپنی پوری کوشش کرتے رہیے، آپ ان کی ہدایت سے مایوس ہو کر اور ان کی خواہشات کی خاطر تبلیغ کو ترک نہ کیجیے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{فلا تُطِعِ الكافرينَ}: في تركِ شيء مما أرْسِلْتَ به، بلِ ابذلْ جهدكَ في تبليغ ما أُرْسِلْتَ به، {وجاهِدْهم}: بالقرآن {جهاداً كبيراً}؛ أي: لا تُبْقِ من مجهودك في نصر الحقِّ وقمع الباطل إلاَّ بذلته، ولو رأيتَ منهم من التكذيب والجراءة ما رأيت؛ فابذل جهدك، واستفرغْ وُسْعَكَ، ولا تيأسْ من هدايَتِهِم، ولا تترُكْ إبلاغَهم لأهوائهم.