تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الفرقان (25) — آیت 51

وَ لَوۡ شِئۡنَا لَبَعَثۡنَا فِیۡ کُلِّ قَرۡیَۃٍ نَّذِیۡرًا ﴿۫ۖ۵۱﴾
اور اگر ہم چاہتے تو ضرور ہر بستی میں ایک ڈرانے والا بھیج دیتے۔ En
اور اگر ہم چاہتے تو ہر بستی میں ڈرانے والا بھیج دیتے
En
اگر ہم چاہتے تو ہر ہر بستی میں ایک ایک ڈرانے واﻻ بھیج دیتے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی مشیت کے نفوذ کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ اگر وہ چاہتا تو ہر بستی میں ڈرانے والا بھیج دیتا، یعنی ہر بستی میں ایسا رسول بھیج دیتا جو ان کو گناہوں کے انجام سے ڈراتا۔ پس اس کی مشیت اس سے قاصر نہ تھی مگر اے محمد! صلی اللہ علیہ وسلم آپ اور اپنے بندوں پر اس کی حکمت اور رحمت کا تقاضا یہ تھا کہ اس نے آپ کو سرخ و سیاہ، عربی و عجمی اور انس و جن تمام لوگوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يخبر تعالى عن نفوذ مشيئتِهِ، وأنَّه لو شاء؛ لبعثَ في كلِّ قرية نذيراً؛ أي: رسولاً ينذِرُهم ويحذِّرهم؛ فمشيئتُهُ غير قاصرة عن ذلك، ولكنِ اقتضتْ حكمتُهُ ورحمتُهُ بك وبالعباد يا محمدُ أنْ أرسَلَك إلى جميعهم؛ أحمرِهم وأسودِهم، عربيِّهم وعجميِّهم، إنسهم وجنهم.