تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الفرقان (25) — آیت 50

وَ لَقَدۡ صَرَّفۡنٰہُ بَیۡنَہُمۡ لِیَذَّکَّرُوۡا ۫ۖ فَاَبٰۤی اَکۡثَرُ النَّاسِ اِلَّا کُفُوۡرًا ﴿۵۰﴾
اور بلا شبہ یقینا ہم نے اسے ان کے درمیان پھیر پھیر کر بھیجا، تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں، مگر اکثر لوگوں نے سخت ناشکری کرنے کے سوا کچھ نہیں مانا۔ En
اور ہم نے اس (قرآن کی آیتوں) کو طرح طرح سے لوگوں میں بیان کیا تاکہ نصیحت پکڑیں مگر بہت سے لوگوں نے انکار کے سوا قبول نہ کیا
En
اور بے شک ہم نے اسےان کے درمیان طرح طرح سے بیان کیا تاکہ وه نصیحت حاصل کریں، مگر پھر بھی اکثر لوگوں نے سوائے ناشکری کے مانا نہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان آیات کا ذکر فرمایا جن کا عینی مشاہدہ کیا جا سکتا ہے اور بندوں کی طرف انھیں پھیر دیا تاکہ بندے اپنے رب کو پہچان لیں، اس کا شکر ادا کریں اور اس کو یاد رکھیں مگر اس کے باوجود ﴿فَاَبٰۤى اَ كْثَرُ النَّاسِ اِلَّا كُفُوْرًا اکثر لوگوں نے فساد اخلاق اور فساد طبائع کی بنا پر کفر اور ناشکری ہی کا رویہ اختیار کیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولما ذكر تعالى هذه الآيات العيانيَّة المشاهدة، وصرفها للعباد ليعرفوه ويشكروه ويذكروه؛ مع ذلك: أبى {أكثرُ الناس إلا كُفوراً}: لفساد أخلاقهم وطبائعهم.