تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الفرقان (25) — آیت 31

وَ کَذٰلِکَ جَعَلۡنَا لِکُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا مِّنَ الۡمُجۡرِمِیۡنَ ؕ وَ کَفٰی بِرَبِّکَ ہَادِیًا وَّ نَصِیۡرًا ﴿۳۱﴾
اور اسی طرح ہم نے ہر نبی کے لیے مجرموں میں سے کوئی نہ کوئی دشمن بنایا اور تیرا رب ہدایت دینے والا اور مدد کرنے والا کافی ہے۔ En
اور اسی طرح ہم نے گنہگاروں میں سے ہر پیغمبر کا دشمن بنا دیا۔ اور تمہارا پروردگار ہدایت دینے اور مدد کرنے کو کافی ہے
En
اور اسی طرح ہم نے ہر نبی کے دشمن بعض گناه گاروں کو بنادیا ہے اور تیرا رب ہی ہدایت کرنے واﻻ اور مدد کرنے واﻻ کافی ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دیتے ہوئے آگاہ فرمایا کہ ان کے گزشتہ آباء واجداد نے بھی ایسا ہی کیا تھا جیسا کہ یہ کر رہے ہیں، چنانچہ فرمایا: ﴿ وَؔكَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُ٘لِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا مِّنَ الْمُجْرِمِیْنَ اور اسی طرح بنایا ہم نے ہر نبی کا دشمن، گناہ گاروں میں سے۔ یعنی ان لوگوں میں سے جو بھلائی کی صلاحیت رکھتے تھے نہ اس کے لائق تھے بلکہ اس کے برعکس وہ انبیاء ورسل کی مخالفت کرتے تھے، ان کی دعوت کو ٹھکراتے تھے اور باطل دلائل کے ذریعے سے ان کے ساتھ جھگڑتے تھے۔
یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ حق ہمیشہ باطل پر غالب آتا ہے، حق پوری طرح واضح ہوتا ہے کیونکہ باطل کا حق کے ساتھ معارضہ ایک ایسا امر ہے جو حق کو اور زیادہ واضح اور استدلال کو درجۂ کمال تک پہنچا دیتا ہے اور یہ واضح ہو جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اہل حق کو کس عزت و تکریم سے سرفراز کرے گا اور اہل باطل کے ساتھ کیا سلوک کرے گا، لہٰذا آپ ان کی باتوں پر غمزوہ نہ ہوں اور ان پر حسرت اور غم کے مارے آپ کی جان نہ گھلے۔ ﴿ وَؔكَ٘فٰى بِرَبِّكَ هَادِیً٘ا اور آپ کو راہ دکھانے کے لیے آپ کا رب کافی ہے۔ پس آپ کو اپنا مطلوب و مقصود اور دنیا و آخرت کے تمام مصالح حاصل ہوں گے۔ ﴿وَنَصِیْرًا اور مددگار بھی۔ وہ آپ کے دشمنوں کے خلاف آپ کی مدد کرے گا آپ کے دینی اور دنیاوی معاملات میں آپ سے تکلیف دہ امور کو دور کرے گا، اس لیے آپ اللہ تعالیٰ ہی کو کافی سمجھیے اور اسی پر بھروسہ کیجیے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

قال الله مسلياً لرسولِهِ ومخبراً: إنَّ هؤلاء الخلق لهم سلفٌ صنعوا كصنيعِهِم، فقال: {وكذلك جَعَلْنا لكلِّ نبيٍّ عدوًّا من المجرمين}؛ أي: من الذين لا يصلحون للخير ولا يزكون عليه؛ يعارضونهم، ويردُّون عليهم، ويجادلونهم بالباطل. من بعض فوائد ذلك أنْ يعلوَ الحقُّ على الباطل، وأن يتبيَّن الحقُّ ويتَّضح اتِّضاحاً عظيماً؛ لأنَّ معارضة الباطل للحقِّ مما تزيدُهُ وضوحاً وبياناً وكمالَ استدلال، وأن نتبيَّن ما يفعل الله بأهل الحقِّ من الكرامة، وبأهل الباطل من العقوبة؛ فلا تحزنْ عليهم، ولا تَذْهَبْ نفسُك عليهم حسراتٍ، {وكفى بربِّك هادياً}: يهديك فيحصُلُ لك المطلوبُ ومصالحُ دينك ودنياك، {ونَصيراً}: ينصُرُك على أعدائِكَ، ويدفعُ عنك كلَّ مكروه في أمر الدين والدُّنيا؛ فاكتف به وتوكَّلْ عليه.