تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿وَقَالَالرَّسُوْلُ ﴾ اور کہا رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے“ اپنے رب کو پکارتے، قرآن سے ان کی روگردانی کا شکوہ کرتے اور ان کے رویے پر تاسف کا اظہار کرتے ہوئے: ﴿ یٰرَبِّاِنَّقَوْمِی ﴾”اے میرے رب! میری قوم نے۔“ جن کی ہدایت اور جن میں تبلیغ کرنے کے لیے تو نے مجھے مبعوث کیا تھا ﴿ اتَّؔخَذُوْاهٰؔذَاالْ٘قُ٘رْاٰنَمَهْجُوْرًا﴾ انھوں نے اس قرآن سے اعراض کرتے ہوئے اسے چھوڑ دیا ہے حالانکہ ان پر واجب ہے کہ وہ اس کے فیصلے کے سامنے سرتسلیم خم کرتے، اس کے احکام کو قبول کرتے اور اس کی پیروی کرتے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وقال الرسولُ}: منادياً لربِّه وشاكياً عليه إعراض قومِهِ عمَّا جاء به ومتأسفاً على ذلك منهم: {يا ربِّ إنَّ قومي}: الذي أرسلْتَني لهدايتهم وتبليغهم {اتَّخذوا هذه القرآن مَهْجوراً}؛ أي: قد أعرضوا عنه وهجروه وتركوه، مع أنَّ الواجب عليهم الانقيادُ لحكمه والإقبال على أحكامه والمشي خلفه.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔