اور ان لوگوں نے کہا جنھوں نے کفر کیا، یہ قرآن اس پر ایک ہی بار کیوں نہ نازل کر دیا گیا؟ اسی طرح ( ہم نے اتارا) تاکہ ہم اس کے ساتھ تیرے دل کو مضبوط کریں اور ہم نے اسے ٹھہر ٹھہر کر پڑھا، خوب ٹھہر کر پڑھنا۔
En
اور کافر کہتے ہیں کہ اس پر قرآن ایک ہی دفعہ کیوں نہیں اُتارا گیا۔ اس طرح (آہستہ آہستہ) اس لئے اُتارا گیا کہ اس سے تمہارے دل کو قائم رکھیں۔ اور اسی واسطے ہم اس کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے رہے ہیں
اور کافروں نے کہا کہ اس پر قرآن سارا کا سارا ایک ساتھ ہی کیوں نہ اتارا گیا اسی طرح ہم نے (تھوڑا تھوڑا کرکے) اتارا تاکہ اس سے ہم آپ کا دل قوی رکھیں، ہم نے اسے ٹھہر ٹھہر کر ہی پڑھ سنایا ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
یہ کفار کے جملہ اعتراضات میں سے ایک اعتراض ہے جو ان کو ان کے نفس نے سجھایا ہے، چنانچہ ان کا قول ہے: ﴿ لَوْلَانُزِّلَعَلَیْهِالْ٘قُ٘رْاٰنُجُمْلَةًوَّاحِدَةً﴾ یعنی وہ کونسی رکاوٹ ہے جس کی وجہ سے تمام قرآن ایک ہی دفعہ نازل نہیں ہوا، جیسا کہ اس سے پہلے کتابیں نازل ہوئیں؟ بلکہ اس کا ایک ہی دفعہ نازل ہونا تو زیادہ اچھا ہے۔ اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے جواب میں فرمایا: ﴿ كَذٰلِكَ﴾ یعنی اسی طرح ہم نے اسے ٹکڑے ٹکڑے کر کے نازل کیا ہے ﴿لِنُثَبِّتَبِهٖفُؤَادَكَ﴾”تاکہ ہم اس کے ذریعے سے آپ کے دل کو مضبوط کریں۔“ کیونکہ جب بھی آپ پر قرآن کا کوئی حصہ نازل ہوتا تھا آپ کے اطمینان اور ثابت قدمی میں اضافہ ہو جاتا تھا، خاص طور پر اس وقت جب اسباب قلق وارد ہوتے تو آپ کا اطمینان بڑھ جاتا تھا کیونکہ کسی قلق کے پیش آنے پر قرآن کا نازل ہونا بر محل ہے اور بہت زیادہ ثبات کا باعث ہے اور اس سے زیادہ فائدہ مند ہے کہ اس واقعہ سے پہلے نازل ہوا ہو اور اس سبب کے وقوع پر یاد آئے۔
﴿ وَرَتَّلْنٰهُتَرْتِیْلًا﴾”ہم نے اسے ٹھہر ٹھہر کر ہی پڑھ سنایا ہے۔“ یعنی ہم نے اسے آہستہ آہستہ بتدریج نازل کیا۔ یہ تمام آیات کریمہ اپنے رسول محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے اعتناء پر دلالت کرتی ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب کو رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احوال اور آپ کے دینی مصالح کے مطابق نازل فرمایا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
هذا من جملة مقترحات الكفَّار الذي توحيه إليهم أنفسُهُم، فقالوا: {لولا نُزِّلَ عليه القرآنُ جملةً واحدةً}؛ أي: كَمَا أُنْزِلَت الكتبُ قبلَه. وأيُّ محذورٍ من نزوله على هذا الوجه؟! بل نزوله على هذا الوجه أكمل وأحسن، ولهذا قال: {كذلك}: أنزلناه متفرقاً {لِنُثَبِّتَ به فؤادَكَ}: لأنَّه كلَّما نزلَ عليه شيء من القرآن؛ ازداد طمأنينةً وثباتاً، وخصوصاً عند ورود أسباب القلق؛ فإنَّ نزول القرآن عند حدوثه يكون له موقعٌ عظيمٌ وتثبيتٌ كثيرٌ أبلغ مما لو كان نازلاً قبل ذلك ثم تذكَّره عند حلول سببه، {ورتَّلْناه ترتيلاً}؛ أي: مَهَّلْناه، ودرَّجْناك فيه تدريجاً.
وهذا كلُّه يدلُّ على اعتناء الله بكتابه القرآن وبرسولِهِ محمدٍ - صلى الله عليه وسلم -؛ حيث جعل إنزال كتابه جارياً على أحوال الرسول ومصالحِهِ الدينيَّةِ.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔